اقلیتی اداروں میں جلد تقررات کا فیصلہ ، وزیر اقلیتی بہبود کا حصول تفصیلات
حیدرآباد۔17۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت آندھراپردیش نے تلنگانہ حکومت کی تقلید کرتے ہوئے اقلیتی اداروں پر جلد تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود ڈاکٹر پلے رگھوناتھ ریڈی نے اقلیتی اداروں اور ان میں موجود عہدوں کی تعداد کی تفصیلات حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر رگھوناتھ ریڈی نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے علاوہ غریب مسلمانوں کو فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال آئی پی ایس، پروفیسر ایس اے شکور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ وزیر اقلیتی بہبود نے جائزہ اجلاس میں مختلف اسکیمات اور ان پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ آندھراپردیش حکومت نے تلنگانہ میں عمل کی جارہی شادی مبارک اسکیم کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم آندھراپردیش میں اس اسکیم کا نام دوسرا ہوگا۔ آندھراپردیش میں فی الوقت غریب لڑکیوں کیلئے اجتماعی شادیوں کی اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر رگھوناتھ ریڈی نے شادی مبارک اسکیم کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو اسکیم کے فوائد سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے آندھراپردیش میں اسی طرز کی اسکیم شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ آندھراپردیش میں غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 50,000 روپئے امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے جبکہ تلنگانہ میں یہ رقم 51,000 ہزار ہے۔ جاریہ سال بجٹ میں آندھراپردیش نے اجتماعی شادیوں کیلئے 50 لاکھ روپئے مختص کئے ہیں تاہم نئی اسکیم کو قطعیت دینے کی صورت میں بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ اسکیم سے استفادہ کیلئے شرائط تقریباً یکساں ہیں تاہم آندھراپردیش میں امیدواروں کیلئے آمدنی کی حد ایک لاکھ روپئے ہوگی جبکہ تلنگانہ میں یہ دو لاکھ ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں مسلم عوامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر آمدنی کی حد میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی ، وقف بورڈ ، حج کمیٹی اور فینانس کارپوریشن میں ڈائرکٹرس کی تعداد کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش حکومت نے بنکوں سے مربوط سبسیڈی کی رقم کی اجرائی سے اتفاق کرلیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے پاس آندھراپردیش کے امیدواروں میں سبسیڈی کیلئے درکار بجٹ موجود ہے۔ تاہم صرف حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔ آندھراپردیش میں نئے حج ہاؤز کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ دارالحکومت جس شہر میں قائم ہوگا وہیں پر حج ہاؤز تعمیر کیا جائے گا۔ ضلع کرنول میں مقامی عازمین حج کیلئے ضلعی سطح کا حج ہاؤز تعمیر کیا جارہا ہے۔ اقلیتی اداروں کی تقسیم کے بعد شیخ محمد اقبال کو دو اہم ذمہ داریاں دیئے جانے کا امکان ہے ۔ وہ کمشنر اقلیتی بہبود کے علاوہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زائد ذمہ داری سنبھال لیں گے۔