ہرٹیج اور جرسی کمپنیوں کے بعد دیگر کمپنیاں بھی قیمت میں اضافہ کے لیے مصروف
حیدرآباد۔17اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ و آندھرا پردیش میں دودھ کی قیمت میں اضافہ کیا جاچکا ہے اور دونوں ریاستوں میں دودھ سربراہ کرنے والی دو بڑی خانگی کمپنیو ں نے اپنے دودھ کی قیمت میں 2روپئے کے اضافہ کا اعلان کردیا ہے ۔ ہیریٹیج اور جرسی کی جانب سے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر دو روپئے اضافہ کے بعد بتایا جا رہاہے کہ دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی دودھ کی قیمت میں اضافہ کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے ا ور دیگر کمپنیوں کے دودھ کی قیمت میں بھی بہت جلد اضافہ متوقع ہے۔ہریٹیج اور جرسی کی جانب سے کئے جانے والے اضافہ کے بعد وجئے ڈیری ‘ تروملا‘ امول کے علاوہ دودلا کے دودھ کی قیمت میں بھی اضافہ کے متعلق کمپنیوں کی جانب سے غور کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک ان کمپنیوں کے دودھ کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا جائے گا۔شہر حیدرآباد میں دودھ کی قیمت فی الحال 42روپئے فی لیٹر ہے اور قیمتوں میں اضافہ کے بعد یہ قیمت 44تک پہنچ چکی ہے ۔ان سرکردہ کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ موسم گرما کے دوران دودھ کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اس اضافہ سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے اسی لئے موسم گرما کے دوران دودھ کی قیمت میں اضافہ ہوا کرتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں دودھ کی قلت اور شہر حیدرآباد میں گرما کے دوران دودھ کی طلب میں اضافہ کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے
۔ملک بھر کی کئی ریاستوں میں دودھ کی قلت نہیں ہوتی لیکن جاریہ موسم گرما کے دوران فاضل دودھ کی پیداوار کرنے والی ریاستوں میں بھی دودھ کی قلت ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ انہیں بھی دودھ کے قحط کا سامنا ہے کیونکہ پیداوار میں ہونے والی کمی سے نمٹنا دشوار کن ہوتا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں یومیہ 25تا30لاکھ لیٹر دودھ کی کھپت ہے اور اس کو پوراکرنے میں سرکاری ڈیری اور خانگی ڈیری کے علاوہ چھوٹے کسانو ںکی سربراہی کا اہم رول ہوتا ہے ۔ دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں یومیہ 10لاکھ لیٹر دودھ استعمال کیا جاتا ہے اور موسم گرما کے د وران دودھ کی قلت کے باوجود اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ قیمتو ںمیں اضافہ نہ کیا جائے اور اسی لئے گذشتہ تین برسوں کے دوران دودھ کی قیمت میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا لیکن اس مرتبہ گرمی کی شدت اور پیداوار کی کمی کے علاوہ فاضل دودھ رکھنے والی ریاستوں میں بھی قلت کے خدشات کو دیکھتے ہوئے دودھ کی قیمت میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے ہیں۔