حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش حکومت بجٹ 2015 کو قطعیت دینے میں مصروف ہے۔ 7مارچ سے آندھرا پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوگا جس میں وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو 12مارچ کو عام بجٹ پیش کریں گے۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو بجٹ کو قطعیت دینے کے سلسلہ میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے ساتھ مسلسل مشاورت کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کے اہم خدوخال کو قطعیت دے دی گئی۔ عام انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجٹ کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آندھرا پردیش کا بجٹ برائے سال 2015-16 ایک لاکھ کروڑ سے زائد کا ہوگا۔ 7مارچ سے شروع ہونے والا بجٹ سیشن 27مارچ تک جاری رہ سکتا ہے۔ وزیر فینانس کی جانب سے 12مارچ کو عام بجٹ کی پیشکشی کے بعد 13مارچ کو زراعت اور اس سے متعلق محکمہ جات کا خصوصی بجٹ پیش کیا جائے گا۔ اس طرح آندھرا پردیش حکومت زراعت کے شعبہ کی اہمیت اور اپنی ترجیح کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرے گی۔ 27مارچ کو تصرف بل کو منظوری دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف محکمہ جات کی جانب سے داخل کی گئی بجٹ تجاویز کے اعتبار سے 2015-16کا بجٹ ایک لاکھ کروڑ سے زائد کا ہوگا۔ انتخابات کے موقع پر کئے گئے وعدے، بی سی سب پلان کیلئے خصوصی منظوری، روزگار پر مبنی اسکیمات کیلئے زائد بجٹ اور فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں زائد بجٹ مختص کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ نئی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت میں صنعتی ترقی کیلئے بھی زائد بجٹ کی منظوری اور سرمایہ کاروں کیلئے مختلف مراعات کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایس سی، ایس ٹی، اقلیت اور خواتین کی بہبود کیلئے جاریہ سال کے مقابلہ بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ اسی دوران چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی بجٹ میں ان کی ریاست کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی کی حلیف جماعت ہونے کے باوجود مرکزی بجٹ میں آندھرا پردیش کیلئے زائد رقم مختص نہ کرنے پر تلگودیشم ناراض ہے اور اس نے اپنی ناراضگی کا کھل کا اظہار بھی کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگودیشم کو امید تھی کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دیتے ہوئے ترقی کیلئے زائد بجٹ منظور کیا جائے گا لیکن عام بجٹ سے آندھرا پردیش کو مایوسی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے موقع پر چندرا بابو نائیڈو نئے دارالحکومت کی تعمیر، پولاورم پراجکٹ اور دیگر ترقیاتی اسکیمات کیلئے زائد رقم کی منظوری کی مساعی کریں گے اور حکومت کی تجاویز پیش کریں گے۔چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کی ترقی کے سلسلہ میں تنظیم جدید قانون میں کئے گئے وعدوں اور آندھرا پردیش کے حقوق کے تعین پر مشتمل رپورٹ بھی وزیر اعظم کو پیش کریں گے۔ وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو نے مرکزی بجٹ پر ناراضگی جتائی اور کہا کہ مرکز نے آندھرا پردیش سے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت خسارہ کو کم کرنے اور آمدنی میں اضافہ کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمہ جات کی جانب سے بجٹ تجاویز حاصل ہوچکی ہیں جن کی بنیاد پر بجٹ کو قطعیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بی سی طبقہ کیلئے علحدہ سب پلان کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیر فینانس کے مطابق بجٹ میں عام آدمی پر کوئی بوجھ عائد نہیں ہوگا۔