آندھرا پردیش اسمبلی میں وائی ایس آر کانگریس کے 8 ارکان معطل

وائی ایس آر سی پی کا واک آؤٹ، اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس
حیدرآباد /19 مارچ (سیاست نیوز) اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کرنے پر اسپیکر اسمبلی آندھرا پردیش کوڈیلا شیوا پرساد نے وائی ایس آر کانگریس کے 8 ارکان سریکانت ریڈی، بھاسکر ریڈی، متیال نائیڈو، کوڈالی نانی، پی رام کرشنا ریڈی، شیوا پرساد ریڈی اور چاند باشاہ کو 23 مارچ تک اسمبلی کی کارروائی سے معطل کردیا، جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس کے ارکان نے اسپیکر کے خلاف ڈاؤن ڈاؤن کے نعرے لگائے اور پارٹی نے واک آؤٹ کرتے ہوئے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی۔ اس دوران صدر وائی ایس آر کانگریس و قائد اپوزیشن آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی نے اسمبلی واقعہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دباکر جمہوری اصولوں کو داغدار بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی ہے، لہذا جب تک تحریک پر مباحث نہیں ہوں گے، ہماری پارٹی کے ارکان اسمبلی میں قدم نہیں رکھیں گے۔ دریں اثناء جگن موہن ریڈی نے راج بھون پہنچ کر گورنر نرسمہن کے سامنے واقعہ کی تفصیلات پیش کیں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے اہم بجٹ اجلاس کو صرف 17 دن تک محدود کردیا گیا اور مباحث کے دوران خلل اندازی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ پر چار دن مباحث کا فیصلہ کیا گیا، مگر صرف ایک دن مباحث ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اس مباحث کے لئے مجھے صرف ایک گھنٹہ دیا گیا، جس کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے میں نے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جب بھی بحیثیت اپوزیش لیڈر میں اسمبلی میں بات کرتا ہوں تو تلگودیشم ارکان دوران تقریر مداخلت کرکے وقت ضائع کرتے ہیں اور اصل موضوع سے اسمبلی اور عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود میں اپنے اصل موضوع سے نہیں ہٹا، جب کہ 50 منٹ مکمل ہونے سے قبل ہی اسپیکر نے ان کا مائک بند کردیا۔ انھوں نے کہا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ جمہوری نظام میں کس طرح کی ناانصافی ہو رہی ہے، یہاں تک کہ کسانوں کے مسائل اور قرضہ جات کی معافی پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انھوں نے جب بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو اسپیکر نے اس میں بھی مداخلت کی۔ اس طرح کے واقعات پہلی مرتبہ آندھرا پردیش اسمبلی میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کو بات کرنے سے روکا گیا تو عوامی مسائل کس طرح منظر عام پر آئیں گے؟۔