حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( پی ٹی آئی ) : آندھرا پردیش کے صدر مقام کی نشاندہی اور اس کی ترقی کے لیے حکومت آندھرا پردیش نے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ کمیٹی ملک میں دیگر ریاستوں کے صدر مقامات اور بیرون ممالک سنگاپور ، پتراجیا اور دبئی کا دورہ کرتے ہوئے ان کی اسٹڈی کرے گی ۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے بات چیت کے بعد نوی ممبئی ، چندی گڑھ ، نیا رائے پور اور گاندھی نگر کے دورہ کا فیصلہ کیا گیا ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق پی نارائن نے یہ بات بتائی ۔ کمیٹی اسلام آباد ، برازیل کے دورہ کا بھی ارادہ رکھتی ہے ۔ پیانل کمیٹی ریاستی وزیر پی نارائنا کی نگرانی میں کام کرے گی ۔ جس میں تلگو دیشم راجیہ سبھا رکن وائی ایس چودھری ٹی ڈی پی ایم پی جی جیا دیو و دیگر شامل ہیں ۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو بتایا جاتا ہے نئے صدر مقام کی نشاندہی اور ترقی کے لیے کافی سنجیدہ ہیں ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد سے چند دفاتر کی آندھرا صدر مقام کو منتقلی کا موضوع بھی زیر بحث رہا ۔
دریں اثناء مرکز نے ماہرین کی کمیٹی کا تقرر کیا ہے ۔ جس کی نگرانی اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے سی سیوا راما کرشنن کریں گے ۔ وہ وشاکھا پٹنم ، راجمندری ، وجئے واڑہ ، کڑپہ ، تروپتی ، اننت پور اور کرنول کا دورہ کرتے ہوئے توقع ہے کہ جاریہ ماہ اپنی رپورٹ پیش کردیں گے ۔ مشاورتی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر ماہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کے ہمراہ صدر مقام کی ترقی کے متعلق جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے ۔ ریاستی حکومت نے اس بات کا بھی فیصلہ کیا ہے کہ مشاورتی کمیٹی قومی اور بین الاقوامی طور پر تین شخصیتوں کو خصوصی مدعوین کے طور پر مدعو کریں ۔ شیوا راما کرشنن کمیٹی توقع ہے کہ جاریہ ماہ اپنی رپورٹ پیش کردے گی جب کہ صدر مقام کی نشاندہی میں یہ کمیٹی ایک اہم رول ادا کرے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف گروپوں تنظیموں کی آندھرا پردیش کے صدر مقام کی نشاندہی اور ترقی کو لے کر ریاستی حکومت پر کافی دباؤ ہے ۔ حیدرآباد موجودہ طور پر آندھرا پردیش اور ریاست تلنگانہ کا دس سال تک کیلئے مشترکہ صدر مقام ہے ۔۔