مالکین کی منظوری سے اراضیات کا حصول ‘ اے پی بجٹ میں ادعا
حیدرآباد 12 مارچ ( پی ٹی آئی ) حکومت آندھرا پردیش ‘ ریاست کے نئے دارالحکومت کی تعمیر کیلئے دستیاب 33,000 ایکڑ اراضیات میں سے نصف عام انفرا اسٹرکچر کیلئے استعمال کریگی جبکہ دارالحکومت کامپلکس 7,000 ایکر اراضی پر مشتمل ہوگا ۔ مالیاتی سال 2015-16 کیلئے جو بجٹ آج آندھرا پردیش اسمبلی میں پیش کیا گیا اس میں شہری ترقی کیلئے ‘ جس میں دارالحکومت شہر کی تعمیر و ترقی بھی شامل ہے 3,168 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں۔ اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں کہا گیا ہے کہ جو مکمل اراضی درکار ہے وہ داارلحکومت شہر میںاراضی مالکین کی مرضی سے حاصل کی جا رہی ہے جو تقریبا 33,252 ایکڑ اراضی ہے ۔ 87 فیصد اراضی مالکین نے لینڈ پولنگ کلئے منظوری دیدی ہے ۔ بجٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اراضی میں تقریبا 50 فیصد اراضی کو عام انفرا اسٹرکچر کیلئے استعمال کیا جائیگا جبکہ 25 فیصد اراضی ڈیولپ پلاٹ کی شکل میں اراضی مالکین کو واپس کردی جائیگی ۔ اس کے بعد ریاست کے پاس 7,000 ایکڑ اراضی باقی رہ جائیگی جس پر کیپیٹل کامپلکس تعمیر کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ اراضی حصول سرمایہ کاری کیلئے استعمال کی جائیگی تاکہ شہر کے عوام کو قابل گذر ملازمتیں فراہم کی جاسکیں۔ بجٹ میں کہا گیا ہے کہ آندھرا پردیش ریاست کی تقسیم کے نتیجہ میں نئے دارالحکومت کی تعمیر ضروری ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نیا دارالحکومت ایک تخلیقی ‘ اختراعی اور دیرپا انفرا اسٹرکچر پر مبنی ہوگا ۔