حیدرآباد۔15فبروری(سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش میںاقلیتوں کو بے پناہ مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے سروسیکشھا ابھیان کی اسٹیٹ پراجکٹ افیسر شریمتی اوشا رانی نے کہاکہ ان مسائل کا واحد حل اقلیتوں کو تعلیمی میدان میںاپنے قابلیت کا لوہا منوانا ہے۔ ہوٹل ہرشامیں اے پی اُردو فورم اور مظہر ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ اُردو کانفرنس سے خصوصی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے اقلیتی طبقات میں تعلیمی شعور بیداری مہم ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ مختلف تنظیمو ںاور اداروں کی جانب سے مسلم اقلیت میں تعلیمی شعور بیداری کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں نونہال آج بھی تعلیم سے محروم ہیں ۔شہر حیدرآباد ریاست کی راج دھانی ہے اور دنیا کے خوبصورت شہر و ںمیں حیدرآباد کا شمار کیاجاتا ہے مگر کے معاملے میںحیدرآباد ملک کے دیگر شہروں سے بہت پیچھے ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی شہر حیدرآباد میں چھ تا سات ہزار ایسے نونہال ہیں جو اسکول نہیںجاتے ۔اقلیتی طبقات میں تعلیم کو عام کرنے کے لئے حکومت کی اسکیمات سے بھی اقلیتی طبقہ کی آبادی کا بڑا حصہ ناواقف ہے۔ مادری زبان میںتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ذہین اور قابل قراردیتے ہوئے کہاکہ ناصرف اُردو بلکہ دیگر علاقائی زبانوں کا بھی یہی حال ہے انہوں نے شہر حیدرآباد میں تعلیم کو عام کرنے کے اے پی اُردو فورم اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں کی کاوشوں کو خوب سراہا۔ انہوں نے سروسکشھاابھیان کی جانب سے شہر حیدرآباد میں تعلیم کو عام کرنے کی تمام کوششوں میں مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا۔سکریٹری ؍ ڈائرکٹر اے پی اُردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے خطاب کرتے ہوئے مضامین کی مناسبت سے اُردو میڈیم ٹیچرس کے تقررات اور اُردو میڈیم اسکولس میں اسٹرکچر فراہمی کے متعلق اُردو اکیڈیمی کی جانب سے فراہم کردہ رعایتوں پر روشنی ڈالی انہوں نے مزیدکہاکہ ریاست آندھرا پردیش میںتین ہزار اُردو میڈیم اسکولس ہیں جن میں سے ایک ہزارپچاس اسکولس کو اُردو اکیڈیمی کی جانب سے معاشی امداد کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ایک ہزا ر کروڑ سے زائد رقم اقلیتی طبقات کی فلاح وبہبود کے لئے مختص کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اُردو کے بجائے اپنے بچوں کے لئے انگریزی ذریعہ تعلیم کا انتخاب کرنے والے دانشواروں کی اُس بات کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں جس میں مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو دنیا کا سب سے قابل طالب علم قراردیا گیا ہے۔ صدر جمعیت العلماء آندھرا پردیش و رکن قانون سازکونسل حافظ پیر شبیر احمد نے کہاکہ ریاست کے تینوں خطوں میں اُرد و زبان کے ساتھ ناانصافی کے جاری سلسلے کا خاتمہ ضروری ہے انہوں نے اُردو میڈیم کی نصابی کتابوں کی تلگو اکیڈیمی میں اشاعت پر بھی زبردست اعتراض کیا۔ انہوں نے اُردو میڈیم نصابی مواد کی اُردو اکیڈیمی کی نگرانی میںاشاعت کو ضروری قراردیا۔کانفرنس کی صدرات جناب اسمعیٰل الرب اُردو انصاری نے کی جبکہ صدر امبیڈکر نیشنل کانگریس صدر نواب محمد کاظم علی خان اور دیگر نے بھی شرکت اور مخاطب کیا۔