مرکزی کمیٹی کا آج دورہ اننت پور بشمول نیلور ‘ کرنول کئی شہر زیر غور ‘ چندرابابونائیڈو کو وجئے واڑہ سے دلچسپی
حیدرآباد 6 ؍ جولائی (سیاست نیوز) آندھراپردیش ریاست کی نئی راجدھانی کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی حکومت کی تقرر کردہ راما کرشنن کمیٹی کل یعنی 7 اور 8 جولائی کو اننت پور ضلع کا دورہ کرے گی ۔ جبکہ اب تک ہی آندھراپردیش ریاست کے مختلف مقامات کا راما کرشنن کمیٹی دورہ کر کے مکمل جائزہ لے چکی ہے ۔ اور اس دو روزہ دورہ کا اختتام ہونے کے بعد راما کرشنن کمیٹی آندھراپردیش ریاست کی راجدھانی کے سلسلہ میں اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو فوری طور پر پیش کر دینے کی قوی توقع کی جا رہی ہے ۔ آندھراپردیش کی نئی راجدھانی بنانے کے سلسلہ میں خود چیف منسٹر مسٹر این چندرابابونائیڈو کی زیر قیادت حکومت آندھراپردیش میں مختلف زاویوں سے سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ وجئے واڑہ کے قریب نئی راجدھانی بنانے کے لئے حکومت پر دباؤ میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ نیلور ضلع کے کسی مقام کو نئی راجدھانی بنانے کی تجویز بھی حکومت آندھراپردیش کے پاس زیر غور بتائی جاتی ہے ۔ جبکہ کرنول کو آندھراپردیش ریاست کی راجدھانی بنانے کا اعلان کر کے سری پادا معاہدہ پر عمل آوری کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اسی دوران نئی راجدھانی بنانے کے نام پر بڑے پیمانے پر عطیات بھی وصول کئے جا رہے ہیں ۔ مرکز سے نئی راجدھانی بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ رقومات فراہم کرنے کا حکومت آندھراپردیش پرزور مطالبہ کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تمام مراحل کے دوران راجدھانی بنانے کی موافقت اور مخالفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ شیواراما کرشنن کمیٹی مرکزی حکومت کو پیش کرے گی ۔ اور اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس رپورٹ کی پیشکشی کے بعد ہی مرکزی حکومت اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے راجدھانی بنانے کے مسئلہ پر مرکزی حکومت اپنی سیاسی فیصلہ کرے گی ۔ اسی دوران رائیلا راجدھانی سادھنا سمیتی کے زیر اہتمام سندریہ وگیان کیندرم میں آندھراپردیش راجدھانی رائلسیما کا حق کے موضوع پر راونڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد عمل میں لیا گیا ۔ جسٹس لکشمن ریڈی ‘ سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر انجناریڈی ‘ وائی ایس آر کانگریس پارٹی قائد ڈاکٹر ایم وی میسورا ریڈی ‘ سی پی آئی ایم قائد بی وی راگھولو کے علاوہ اے پی این جی اوز اسوسی ایشن قائدین نے بھی اس راونڈ ٹیبل کانفرنس میں شریک تھے ۔ اس موقعہ پر مذکورہ قائدین کی اکثریت نے اس بات کی نشاندہی کی اور یاد دلایا کہ سال 1937 میں ساحلی آندھرا و رائلسیما کے سیاسی قائدین کے مابین طئے پائے ’’ شری باغ‘‘ معاہدہ کے مطابق آندھراپردیش کی راجدھانی رائلسیما میں ہی بنانے کو یقینی بنانا چاہئے ۔ کیونکہ ایک طویل عرصہ سے علاقہ رائلسیما ہر لحاظ سے اور ہر شعبہ میں پسماندہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ شری باغ معاہدہ کے مطابق کرنول میں راجدھانی بنانے گنٹور میں ہائیکورٹ ‘ وشاکھاپٹنم میں یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے ۔ سابق حکومتوں نے اس سلسلہ میں ضرورت کے مطابق اقدامات کرنے میں ناکام رہے اور پولاورم ‘ سری سلیم ‘ تنگھبدرا ڈیموں سے رائلسیما کو پینے کا پانی اور زرعی اغراض کے لئے بھی پانی فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس اجلاس نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت سے رائلسیما کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آندھراپردیش راجدھانی کیلئے کسی مقام کی تلاش کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے کیونکہ کرنول میں تمام تر سہولتیں وسائل فراہم ہیں ۔ بہر صورت رائلسیما کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے ضلع کرنول کو ریاست آندھراپردیش کی نئی راجدھانی بنانے پر اولین ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو وجئے واڑہ اور گنٹور کے درمیان ناگرجنا نگر کے قریب دارالحکومت بنانے سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی مقام پر انہوں نے 8 جون کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف بھی لیا تھا۔