آندھراپردیش ریاست کو خصوصی پیاکیج ،مرکزی و ریاستی حکومتوں پر دباؤ بڑھانے کا اعلان

مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو اور چندرا بابو نائیڈو پر تنقیدیں، ڈگ وجئے سنگھ کا وجئے واڑہ میں خطاب
حیدرآباد ۔ 14 فبروری (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارج آندھراپردیش کانگریس امور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو پر تقسیم ریاست کے وعدوں سے انحراف کرنے اور چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ وجئے واڑہ میں کانگریس قائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے ریاست کو تقسیم کرنے کا مرکز کو مکتوب پیش کیا جبکہ کانگریس نے تمام سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کے بعد سب سے آخر میں ریاست کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس پارٹی نے ریاست کو تقسیم کرنے سے قبل آندھراپردیش کے مفادات کا مکمل خیال رکھا۔ آندھراپردیش کو اسپیشل پیاکیج دینے کے علاوہ پانچ سال تک ریاست کو خصوصی ریاست کا موقف دینے کا تقسیم ریاست بل میں وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے کئی سہولتیں فراہم کیں اور رعایتیں بھی دی تھیں جس کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بی جے پی نے مکمل تائید کی۔ راجیہ سبھا میں وینکیا نائیڈو نے آندھراپردیش کو 5 سال کے بجائے 10 سال تک خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا اور بی جے پی برسراقتدار آنے پر خصوصی ریاست کا درجہ 10 سال تک دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بی جے پی اپنے اقتدار کے 8 ماہ مکمل کرچکی ہے مگر آندھراپردیش کو نہ ہی اسپیشل پیاکیج دیا گیا اور نہ ہی خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا۔ آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے معاملے میں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو اپنے وعدے سے انحراف کررہے ہیں۔ مختلف بہانے کرتے ہوئے آج عوام کو گمراہ کررہے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور ریاست کو اسپیشل پیاکیج اور خصوصی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومت پر دباؤ بنائے گی۔ بی جے پی نے عوام سے کئے گئے وعدوں میں ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا جس پر عوام نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی میں بی جے پی کو شرمناک شکست دی ہے۔ نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے حصول اراضیات کیلئے آرڈیننس جاری کیا ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے چندرا بابو نائیڈو کو دوہری پالیسی اختیار کرنے والا قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے تلنگانہ کی تائید میں مکتوب پیش کیا بعد میں اس سے دستبرداری اختیار کی۔