آندھراپردیش ریاست ترقی کی راہ پر گامزن

وزراء اور عہدیداروں کوحالات اور مسائل سے نمٹنے کا مشورہ : چیف منسٹر چندرا بابو
حیدرآباد /25 جولائی ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد پیدا شدہ حالات کے پیش نظر ہر مسئلہ کی یکسوئی کرتے ہوئے ترقی کو تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ آج یہاں امراوتی میں ریاستی وزراء اعلی عہدیادروں و صدر محکمہ جات کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرح ترقی میں مستحکم رہتے ہوئے نمبر ون مقام ہی پائے گی ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے وزراء اور عہدیداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی رفتار سے آئندہ مزید سات سال تک مسائل و مشکلات اور تکلیف اٹھاتے ہوئے کوشش کریں تو جنوبی ہند ریاستوں میں آمدنی کے وسائل میں اضافہ کے ذریعہ ترقی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ریاست آندھراپردیش میں بارش کے اوسط میں کمی کے باوجود ریاستی شرح ترقی میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ کیونکہ حکومت نے حالات سے موثر انداز میں نمٹتے ہوئے ترقی کی شرح کو برقرار رکھنے کیلئے ممکنہ حد تک کوشش کی ۔ تاہم اس سال ریاست بھر میں بہتر بارش ہونے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں ۔ مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ سری سیلم پراجکٹ (میں تیز بہاؤ کے ساتھ پانی جمع ہو رہا ہے اور اس طرح آئندہ دس یوم میں سری سیلم پراجکٹ کی سطح آب مکمل ہونے کا قوی امکان پایا جارہا ہے ۔ جبکہ پٹی سیما کے باعث آج رائلسیما علاقہ کو مکمل طور پر پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ بارش کے پانی کو ہی زیر زمین آبی وسائل میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جاریہ ماہ 16 جولائی کو ریاستی سطح پر ضلع گنٹور میں گراما درشنی پروگرام کا آغاز کیا گیا ۔ لہذا تمام عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ مواضعات کا دورہ کرکے نچلی سطح پر اس گراما درشنی پروگرام کا تفصیلی جائزہ لینے کی عہدیداروں کو ہدایات دیں اور یہ بھی کہا کہ چار سال کے دوران ریاست کے حالات کو کس طرح تبدیل کیا گیا ۔ عوام کو واقف کروائیں ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست میں صد فیصد گیاس فراہم کی جارہی ہے ۔ حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش غذا فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے مزید کہا کہ ریاست میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔