حیدرآباد ۔ 18 جون (سیاست نیوز) متحدہ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد تشکیل دی گئی نئی ریاست آندھراپردیش کی قانون ساز اسمبلی کے پانچ روزہ سیشن کا کل یعنی 19 جون پنجشنبہ سے آغاز ہوگا۔ اس اسمبلی اجلاس کے انعقاد کیلئے وسیع تر صیانتی و انتظامی اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور ان وسیع تر انتظامات کا تفصیلی جائزہ وزیرفینانس و امور مقننہ مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر جے وی راموڈو کے ہمراہ انتظامات کا جائزہ لیا اور کہا کہ سوائے میڈیا پوائنٹ کے تمام تر انتظامات مکمل کئے گئے۔ میڈیا پوائنٹ کا بھی آئندہ اجلاس تک انتظام کردیا جائے گا۔
بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے بتایا کہ قدیم اسمبلی عمارت آندھراپردیش اسمبلی کیلئے الاٹ کرنے پر اس میں 175 ارکان اسمبلی کو بیٹھنے کیلئے نشستوں کی فراہمی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ آندھراپردیش اسمبلی کیلئے موجودہ میڈیا پوائنٹ کے مقام پر ہی میڈیا پوائنٹ رکھا جاسکتا ہے۔ آندھراپردیش اسمبلی میں داخلہ کیلئے گیٹ نمبر 2 الاٹ کیا گیا اور اسی گیٹ سے چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ وزرائے آندھراپردیش اور ارکان اسمبلی اسی گیٹ سے اسمبلی میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 19 جون کو اسمبلی اجلاس کے پہلے دن 9.52 بجے پروٹم اسپیکر کی حیثیت سے (عبوری اسپیکر) مسز نارائنا سوامی کو ریاستی گورنر آندھراپردیش مسٹر ای ایس ایل نرسمہن حلف دلائیں گے اور پھر 11.45 بجے سے ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوگا۔
کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی عبوری اسپیکر تمام منتخبہ ارکان اسمبلی بشمول مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو بھی حلف دلائیں گے۔ وزیرامور مقننہ نے کہا کہ 20 جون جمعہ کو اسپیکر اسمبلی آندھراپردیش کا انتخاب عمل میں آئے گا اور اسپیکر انتخاب کے فوری بعد ایوان کی کارروائی کمیٹی (اسمبلی بزنس اڈوائزری کمیٹی) کا اجلاس منعقد ہوگا۔ مسٹر وائی راما کرشنوڈو نے مزید کہا کہ پانچ روز تک جاری رہنے والے اس اسمبلی اجلاس کیلئے ایک طرف برسراقتدار تلگودیشم پارٹی اپنی تیاری کرچکی ہے جبکہ اپوزیشن پارٹی وائی ایس آر کانگریس پارٹی بھی اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اس اجلاس میں ابتدائی تین دن یعنی 19 جون ارکان اسمبلی کی حلف برداری 20 جون کو اسپیکر اسمبلی کا انتخاب ہونے کے بعد تیسرے دن یعنی 20 مئی کو ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن اسمبلی و کونسل آندھراپردیش کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ چوتھے و پانچویں دن گورنر کے خطبہ پر پیش کی جانے والی تحریک تشکر پر گرماگرم مباحث کی توقع پائی جاتی ہے۔