آندھرائی عوام سے وعدوں کی تکمیل میں مودی حکومت ناکام

لوک سبھا میں بحث کے دوران سونیا گاندھی کا الزام، وینکیا نائیڈو نے مسترد کردیا
نئی دہلی ۔ 17 مارچ (پی ٹی آئی) کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے آج نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ آندھراپردیش کی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئی ہے لیکن حکومت نے ان کے اس الزام کو مسترد کردیا۔ گاندھی نے ایک طویل مدت کے بعد لوک سبھا میں آج پہلی مرتبہ میں بحث میں حصہ لیا۔ اس دوران انہوں نے آندھراپردیش کے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں حکومت کی جانب سے عجلت کا مظاہرہ نہ کئے جانے پر سخت حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ آندھراپردیش کے عوام ان سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے گذشتہ 9 مہینوں سے پورے صبروتحمل کے ساتھ انتظار کررہے ہیں اور اب یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ حکومت کی جانب سے انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے ارکان کی موجودہ تعداد 50 کو 58 تک بڑھانے سے متعلق بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ماضی میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے راجیہ سبھا میں اپنے اس عہد کا اظہار کیا تھا کہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف دیا جائے گا لیکن ہنوز ایسا نہیں کیا جاسکا ہے۔ مسز سونیا گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران ایوان میں موجود وزیراعظم نریندر مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں (وزیراعظم) کو تاحال اس ضمن میں دو مکتوب روانہ کرچکی ہیں جن کے ذریعہ مرکزی این ڈی اے حکومت کی جانب سے کی جانے والی سردمہری اور بے رخی پر آندھراپردیش کے عوام کے شدید غم و غصہ کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ مسز سونیا گاندھی کے خطاب کے بعد وزیرپارلیمانی امور وینکیا نائیڈو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش کے عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں کانگریس کی صدر کی طرف سے ظاہر کردہ خیالات سے وہ متفق ہیں۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’لیکن حکومت کو یہ صورتحال ورثہ میں ملی ہے اور وہ عوام کی تشویش دور کرنا چاہتی ہے۔ لوگ 9 ماہ کی بات کررہے ہیں۔ ہفتوں کی بات کررہے ہیں لیکن آپ اس بل کو پارلیمنٹ میں لانے کیلئے ساڑھے نو سال لے چکے تھے۔ اب ہم صرف 9 ماہ کے دوران یہ بل لائے ہیں جو نسبتاً کم وقت میں کام مکمل کیا گیا ہے‘‘۔ مسٹر نائیڈو کے اس ریمارک پر کانگریس کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ گئے جس کے ساتھ ہی حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے ارکان کے درمیان بحث و تکرار اور نعرہ بازی شروع ہوگئی۔