حیدرآباد 13 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ضلع نلگنڈہ کے آلیر میں 7 اپریل کو پولیس کے ہاتھوں پانچ مسلم زیر دریافت قیدیوں کی ہلاکت کیلئے 6 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے لیکن اس ٹیم کی کارکردگی پر کئی شبہات ابھر رہے ہیں اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ناممکن دیکھائی دے رہا ہے کیونکہ کہ اس ٹیم کے تین عہدیدار فوج کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے کمسن طالب علم شیخ مصطفی الدین قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے بھی ارکان رہ چکے ہیں۔ کمسن طالب کیس کے نتائج ہنوز برآمد نہیں ہوئے ہیں اور ان عہدیداروں کو ہائی کورٹ کی جانب سے سرزنش بھی کی گئی تھی ۔ حکومت نے آج انسپکٹر جنرل آف پولیس پرسونل سندیپ شنڈلیہ کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا ہے ۔ ٹیم کے ارکان میں شاہنواز قاسم ایس پی کھمم ‘ ایم دیانند ریڈی ڈی ایس پی انٹلی جنس ‘ایم رمنا کمار اے سی پی مادھا پور سائبر آباد ‘ایل راجہ وینکٹ ریڈی انسپکٹر چادر گھاٹ حیدرآباد اور ایس رویندر انسپکٹر ہمایوں نگر شامل ہیں۔غور طلب امر یہ ہے کہ13 اکٹوبر سال 2014 کو کمشنر پولیس حیدرآباد نے شیخ مصطفی الدین قتل کیس کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی قائم کی تھی جس کے سربراہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر پولیس ایسٹ زون مسٹر شاہنواز قاسم کو مقرر کیا تھا اور انسپکٹر چادر گھاٹ ایل راجہ وینکٹ ریڈی اور انسپکٹر ہمایوں مسٹر رویندر اس ٹیم میں شامل تھے ۔8 اکٹوبر کو فوجیوں کے ہاتھوں مہدی پٹنم گیارسن میں زندہ جلا دیئے جانے والے واقعہ میں ایس آئی ٹی خاطیوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے اور محض ایک فوجی اپلا راجو کی خودکشی کے بعد کیس کی تحقیقات برفدان کی نذر ہوگئی ۔ قبل ازیں مسٹر شاہنواز قاسم کا اچانک ضلع کھمم تبادلہ کردیا گیا تھا اور ٹیم کے دیگر عہدیدار اپنے متعلقہ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوگئے تھے۔مصفطی کیس کی تحقیقات کررہی ایس آئی ٹی نے مصالحتی تحقیقات کا مظاہرہ کیا اور محض ضابطہ کی کارروائی کے تحت بعض فوجیوں کی تفتیش کی تھی اور کسی فوجی کی گرفتاری سے گریز کیا گیا ‘ اب وہی ٹیم کے عہدیدار اپنی ہی پولیس کے عہدیداروں کو قصور وار قرار دینے کی جرتمندی کا مظاہرہ کریں گے ؟۔ کیا اس ٹیم کے عہدیداروں کو اثر انداز نہیں کیا جائے گا اور کیوں ایس آئی ٹی کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے وقت مقرر نہیں کیا گیا ؟۔ان سوالات اور شبہات کے پیش نظر کیا مہلوکین کے ارکان خاندان کو انصاف مل سکے گا ۔ آج حکومت نے وقار احمد اور اس کے چار ساتھی سید امجد علی ‘ محمد ذاکر ‘محمد حنیف عرف ڈاکٹر حنیف اور اظہار خان کو انکاونٹر میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ میں کی تحقیقات ایس آئی ٹی کے حوالے کردی اور آج ایک جی او بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم پانچ زیر دریافت قیدیوں کی ہلاکت کی وجوہات اور صورتحال کا جائزہ لے گی۔ تحقیقاتی ٹیم تمام ضروری اور متعلقہ شواہد کو اکٹھا کرتے ہوئے کسی بھی امکان تساہل کی جانچ کرے گی۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد ایس آئی ٹی اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔تحقیقاتی ٹیم کیلئے تحقیقات کی تکمیل کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے ۔انٹلی جنس نے دعوی کیا کہ جنگاوں اور آلیر کے درمیان مذکورہ نوجوانوں نے پولیس اسکارٹ پارٹی کے ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی اور فائرنگ کے تبادلے میں اُن کی ہلاکت واقع ہوئی ۔ اس واقعہ کے سلسلہ میں مختلف دفعات کے تحت آلیر پولیس اسٹیشن میںمقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے پولیس کا منصوبہ بند قتل قرار دیا تھا ۔مہلوکین کے رشتہ داروں نے بھی پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے ۔ مسلمانوں میں اس واقعہ کے بارے میں پائی جانے والی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔مصطفی الدین قتل کیس میں حیدرآباد پولیس کمشنر کی جانب سے تشکیل شدہ ایس آئی ٹی کے عدم نتائج برآمد ہونے کے سبب ہائی کورٹ میں درخواست مفاد عامہ داخل کی گئی تھی جس چیف جسٹس کے اجلاس پر زیر التواء ہے اور سابق میں اس درخواست کی سماعت کے دوران پولیس نے محض حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کی پیشرفت سے عدالت کو واقف کروایا تھا لیکن ٹھوس کارروائی کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے ۔چیف منسٹر کی جانب سے وقار احمد اور ساتھیوں کو انکاونٹر میں ہلاک کرنے کے واقعہ کی تحقیقات ایس آئی ٹی کے حوالے کرنے کے اعلان کے بعد ہی اس کی مخالفت کئی مسلم تنظیموں نے کی ہے اور عدالتی تحقیقات کا سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ۔