آلیر انکاونٹر کی سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے پر زور

قومی انسانی حقوق کمیشن سے آل انڈیا ڈیفنس کونسل کی نمائندگی
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اپریل : ( پریس نوٹ ) : ملک کے اقلیتوں کے دستوری و قانونی حقوق کے تحفظ اور اس کے لیے موثر قانونی کارروائی کرنے کے لیے قائم کردہ آل انڈیا مینارٹیز ڈیفنس کونسل کی جانب سے نیشنل ہیومین رائٹس کمیشن میں موثر نمائندگی کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی جس میں آلیر انکاونٹر کو پانچ مسلم نوجوانوں کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ڈیفنس کونسل کے صدر اور سکریٹری جنرل مسرز عثمان شہید اور علاؤ الدین انصاری ایڈوکیٹس نے یہ یادداشت کمیشن کو پیش کی ۔ یادداشت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جو عدالت عظمیٰ نے پرکاش کے مقدمے میں صادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم چاہے کتنا ہی خطرناک (DREADED) کیوں نہ ہو پولیس کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس کو قتل کرے ۔ بڑے بڑے اور خطرناک جرائم کرنے والا بھی اس وقت تک معصوم ہے جب تک کہ عدالت مجاز اس کو کیفر کردار تک نہ پہنچادے وفد نے مطالبہ کیا کہ اس انکاونٹر کی تحقیقات ہائی کورٹ کے برسرکار جج سے کروائی جائیں ۔ عوام کا اعتماد ایس آئی ٹی سے اُٹھ گیا ہے ۔ پولیس کا کام دستور ہند کی دفعہ 21 کے تحت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ جان لینا ۔ وفد نے سلطان شاہی کے مکینوں پر وقار کے جلوس جنازہ میں شامل کچھ افراد کی جانب سے مبینہ پتھراؤ کے الزام کے تحت پولیس کئی افراد پر ستم توڑ رہی ہے ۔ عورتوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ گھر میں زبردستی گھس کر ہنگامے کررہی ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ تلنگانہ اسٹیٹ کے چیف سکریٹری کی جانب سے جاری کردہ حکومتی اعلامیہ مورخہ 13-4-2015 جی او ایم ایس میں پانچ مسلم نوجوانوں کو Terror Operatives قرار دیدیا ۔ اب حکومت کی نظر میں مرحومین دہشت گردی میں ملوث تھے تو پھر انصاف کی ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں ؟ کیوں کہ دہشت گرد کو گولی مار دینا تو شائد پولیس کی ڈائری میں جائز ہے ۔ انکوائری وغیرہ تو ایک ڈھکوسلہ ہے عوام کو دھوکہ دینے کی مذموم کوشش ہے ۔ وفد نے کمیشن کے علم میں یہ ’’ ظلم ‘‘ کی داستان بھی لائی کہ گجرات کے گاؤں سایاجی پورہ میں تین سو مسلم خاندانوں سے حکومت نے یہ کہہ کر ان کے گھر لے لیے کہ انہیں فلیٹس بناکر دئیے جائیں گے لیکن فلیٹس کی تعمیر کے بعد ہندو برادری انہیں ان فلیٹس میں برداشت نہیں کررہی ہے ۔ اب یہ خاندان بے خانماں برباد آسمان تلے اپنی زندگی گذار رہے ہیں ۔ وفد نے ان مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے عاجلانہ کارروائی کی اپیل کی ہے ۔۔