ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں نایاب کتب اور مخطوطات موجود
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( راست ) : ڈاکٹر سلیمان صدیقی سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ آصف جاہی سلاطین خاص طور پر نظام ششم ، نظام ہفتم کے علاوہ سر سالار جنگ اول کے فلاحی ، سماجی ، تعلیمی ، تعمیراتی اور زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کاموں پر ریسرچ کی ضرورت وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے کیوں کہ آج کل ایک خاص گروپ نظام کے کارناموں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے ۔ سلاطین آصف جاہی پر ریسرچ کرنے کے لیے ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ واقع باغ عامہ نہایت ہی موزں مقام ہے جہاں نایاب کتب اور مخطوطات موجود ہیں جو شاید دیگر کتب خانوں میں نہ ہوں ۔ ڈاکٹر سلیمان صدیقی آج ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ بلاک کا افتتاح کررہے تھے جسے تزئین نو کے ساتھ تمام عصری ضروریات سے لیس کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ اگر کسی ریسرچ اسکالر کو کہیں اور کوئی خاص کتاب یا مخطوطہ مل جائے اسے پین ڈرائیو کے ذریعہ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ بلاک کو روانہ کریں تاکہ اسے محفوظ رکھا جاسکے اور اسے ڈاٹابیس میں شامل کیا جاسکے ۔ مسٹر کمال الدین علی خاں سکریٹری انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ریسرچ بلاک کی تزئین نو کے موقع پر اسکالرس کوڈاکٹر اشرف رفیع ، ڈاکٹر عقیل ہاشمی اور جناب سجاد شاہد ریسرچ اسکالرس کی وقتا فوقتا رہنمائی کریں گے ۔ جناب کے ایم عارف الدین نے اس موقع پر دو کمپیوٹرس اور جناب معز الدین صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ اور جناب تاتار خان نے ایک کمپیوٹر دینے کا اعلان کیا ۔ جب کہ جناب انور الدین نے انٹرنیٹ روٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ محترمہ اشرف رفیع صدر ادارہ نے ادارہ کی ہمہ جہت کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ کے اغراض و مقاصد میں ادبی خدمات اور ریسرچ کام ہی شامل ہے ۔ مالی دشواریوں کے باوجود ریسرچ بلاک کے تزئین نو کے کام کو جس حسن و خوبی سے انجام دیا گیا ہے اس کے لیے آفس سکریٹری جناب احمد علی خاں قابل مبارکباد ہیں ۔ ڈاکٹر سلیمان صدیقی کے مشورے پر آصف جاہی سلاطین پر ریسرچ کرنے کے لیے مسٹر کمال الدین علی خاں نے اپنی خدمات کو پیش کیا۔ آخر میں مسٹر کمال الدین علی خاں سکریٹری کے شکریہ پر یہ خوش گوار افتتاحی تقریب اختتام کو پہنچی ۔ جس میں ادیبوں شاعروں اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔۔