نظام آباد میں تلنگانہ پرجا فرنٹ کی مہا سبھا ، ایم ویدا کمار کا خطاب
حیدرآباد۔11مئی (سیاست نیوز) آصف جاہی دور حکومت میں قائم کردہ تجارتی ادارے نہ صرف ریاست حیدرآباد کی آمدنی کا ذریعہ تھے بلکہ مذکورہ ادارے عوام کو بھی خاطر خواہ روزگار فراہم کرنے میںمددگار تھے۔ نظام آباد میںمنعقدہ تلنگانہ پرجافرنٹ کی مہاسبھا سے خطاب کے دوران نائب صدرواسٹیٹ کوآرڈینیٹر ٹی پی ایف مسٹر ایم ویدا کمار ان خیالات کا اظہار کررہے تھے انہوں نے کہاکہ نظام شوگر فیکٹری‘ نظام ساگر ‘ علی ساگراس کی ایک مثال ہیں۔ مسٹر ویدا کمار نے نظام شوگر فیکٹری کو ریاست آصف جاہی دور حکومت سے لیکر اب تک کی سب سے منظم فیکٹری قراردیتے ہوئے کہاکہ نظام شوگر فیکٹری لاکھوں ایکڑ پر مشتمل گنے کے کھیتوںسے منسلک تھی، مگر آندھرائی حکمرانوں نے پراگاٹولز‘ آلوین ‘ ڈی بی آر‘ اور اعظم جاہی ملز کی طرح نظام شوگر فیکٹری کو بھی خانگی ادارے بناکر کسانوں کے ساتھ ناانصافی اور علاقہ تلنگانہ کے تاریخی اثاثہ کو مٹانے کی کوشش بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ ریاست میں آصف جاہی دور حکومت کے تمام تجارتی اداروں کے سابق موقف کی بحالی اور آصف جاہی دور کے نظامِ تجارت کی بازیابی ہی علاقہ کے کسانوں کی حالت زار میںتبدیلی لاسکتی ہے۔مسٹر ویدا کمار نے انتخابی نتائج کے بعد ریاست سے گورنر رول کی برخواستگی کا بھی اس موقع پر مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میںانتخابات کے بعد گورنر رول کی برقراری کا کوئی جواز باقی نہیںرہتا ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ہی مقام پر دور یاستوں کے سکریٹریٹ کی بھی سختی کے ساتھ مخالفت کی او رکہاکہ ایسے عمل سے دوریاستوں کے ملازمین کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا ہوگا۔ انہوں نے مستقبل میں تلنگانہ حامی ملازمین کے کسی بھی احتجاج پر مکمل تعاون کا اعلان کیا ۔ کنونیر ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی‘ مسلم فرنٹ پروفیسر انور خان‘ جنرل سکریٹری ٹی پی ایف این کرشنا‘ مدی لیڈی‘ شریمتی دیویندرا‘ کے علاوہ دیگر نے بھی اس مہاسبھا سے خطاب کیا۔