آصفہ کے بعد لڑکیوں کو ہوشیار رہنا ہوگا

ریپ ڈرگ خطرناک گولی ، لڑکیوں و خواتین پر غنودگی طاری کردیتی ہے
ایک گولی ایسی بھیانک ہے کہ پھر کبھی لڑکی ماں نہیں بن سکتی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جموں کے کتھوعہ میں خانہ بدوش بکروال قبیلہ سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ معصوم لڑکی آصفہ کو بے ہوش کرنے والی دوا دیتے ہوئے بار بار اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ۔ ملزمین کے خلاف پولیس تحقیقات میں یہ حقیقت منظر عام پر آئی کہ ان درندوں نے آصفہ کو اغواء کرنے سے پہلے بیہوش کرنے والی یا کسی بھی انسان پر غنودگی طاری کرنے والی ڈرگس کی خریدی کی اور پھر اپنے گھوڑوں کی تلاش میں جنگل کی طرف دوڑنے والی بھولی بھالی بچی کا اغواء کرلیا ۔ اسے مندر میں لے گئے اور پھر بے ہوش کرنے والی ڈرگ پلا کر اس کی اجتماعی عصمت ریزی کردی ۔ ان درندوں نے اس طرح گھناونی حرکت کا متعدد مرتبہ ارتکاب کیا اور آصفہ کو تین دن تک کچھ کھانے کے لیے دئیے بغیر منہ کالا کرتے رہے ۔ آصفہ بانو کے ساتھ پیش آئے درندگی کے اس واقعہ نے جہاں سارے ملک کو دہلا کر رکھدیا وہیں چھوٹی ، بڑی لڑکیوں ، کام کاج کرنے والی خواتین آئی ٹی کمپنیوں و ملٹی نیشنل اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری و نیم سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والی خواتین کو چوکس بھی کردیا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آصفہ کی شہادت نے آخر صنف نازک کو کیسے چوکس کردیاہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کتھوعہ میں مندر کے نگران اور دیگر درندوں نے آصفہ پر بیہوش کرنے والی دوا کے ذریعہ قابو پایا ورنہ وہ ان کے چنگل سے آزاد ہو کر وہاں سے بچ نکل سکتی تھی ۔ آپ نے کئی ایسے واقعات کے بارے میں ٹی وی چیانلوں پر دیکھا ہوگا اور اخبارات و جرائد میں پڑھا ہوگا کہ فلاں مقام پر فلاں ماڈل کو ، کسی خاتون کو یا کسی لڑکی کو سافٹ ڈرنک یا کسی اور مشروب میں نشیلی دوا ڈال کر پلایا گیا اور پھر اس کی عصمت ریزی کی گئی ۔ قارئین ! حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں 5 مردوں نے ایک خاتون کا اغواء کیا ۔ ہاسپٹل اور پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایک بس اسٹیشن پر پھینکنے سے پہلے اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ۔ اگرچہ کہ اس خاتون کو گذشتہ شام اس کے ساتھ پیش آیا سنگین واقعہ یاد نہیں رہا ۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ رات بھر 5 درندے اسے نوچتے رہے ۔ اس کی عصمت کو تار تار کرتے رہے ہاسپٹل میں اسے ہوش میں لایا گیا تب تک وہ بھول چکی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کن لوگوں نے اس طرح کی درندگی کا ارتکاب کیا ہے ۔ اگرچہ اسے گذشتہ رات کے واقعات یاد نہیں رہے لیکن طبی معائنوں کے ذریعہ یہ انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھ بار بار منہ کالا کیا گیا ۔ اس خاتون کے خون میں Rohypnol کے اثرات پائے گئے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آجکل Rohypnol کو Date Rape Drug کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ کسی لڑکی یا خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے ناپاک ارادے رکھنے والے تفریحی مقامات ، تقاریب اور پارٹیوں میں مشروبات میں یہ گولی ڈالدیتے ہیں اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گولی مشروبات میں یہاں تک کہ پانی میں بھی بآسانی حل ہوجاتی ہے ۔ یہ ایک بے رنگ گولی ہوتی ہے جس سے مشروبات میں کسی قسم کی بو بھی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ دراصل نسبندی کی ایک چھوٹی سی گولی ہے ۔ جس کا استعمال بیہوش کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اس سے غنودگی طاری ہوتی ہے ۔ عارضی طور پر قوت یادداشت جاتی رہتی ہے ۔ لڑکیوں اور خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والے درندے اکثر اس گولی کا استعمال پرتعش اور بے تکلف پارٹیوں میں کرتے ہیں ۔ جہاں عورتوں اور مردوں کا آزادانہ اختلاط ہوتا ہے جب کسی لڑکی یا خاتون کو پیش کئے جانے والے شربت میں Rohypnol کی گولی ڈالدی جاتی ہے تو اس کے پینے کے بعد اس لڑکی یا خاتون کا دماغ تاریک ہوجاتا ہے ۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ آخر ان کے خلاف کیا سازشیں رچی جارہی ہیں ۔ اور کیا برا ہونے والا ہے چونکہ یہ گولی خواتین میں بانچھ پن پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ اس لیے اس کا ایک یا دو مرتبہ استعمال کرنے والی خواتین کو حمل نہیں ٹھہرتا وہ زندگی بھر ماں بننے کے اعزاز سے محروم رہتی ہے ۔ اس کے ذیلی اثرات عارضی نہیں ہوتے بلکہ مستقل ہوتے ہیں ۔ اس کا جن عورتوں اور لڑکیوں کو استعمال کروایا جاتا ہے وہ کبھی ماں بننے کے قابل نہیں رہتی ۔ Rohypnol پانی میں بآسانی حل ہوجاتی ہے اس لیے اس کا پتہ نہیں چلتا ۔ وٹرنری اسکول یا میڈیکل کالج میں کام کرنے والوں یا پڑھنے والے اسے بآسانی حاصل کرسکتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی مجرمانہ لاپرواہی کے باعث انٹر نیٹ پر بھی اس گولی کے بارے میں تفصیلات عام ہیں ۔ ان حالات میں خاص طور پر لڑکیوں کو اپنے دوست احباب کے ساتھ تفریحی مقامات جانے پارٹیوں میں شرکت کرنے اور مطالعاتی دوروں کے موقع پر مشروبات پینے کے دوران محتاط و چوکس رہنا چاہئے ۔ اپنے مشروب کو اپنے میں ہاتھ رکھیں ایسے ہی چھوڑ کر محو گفتگو نہ ہوجائیں یہ بھی دیکھیں کہ آپ کو جو مشروبات دئیے گئے وہ پہلے ہی سے کھلے ہوئے تو نہیں تھے ۔ یہ تو خواتین اور لڑکیوں کے لیے مشورہ تھا ۔ لڑکوں کے لیے بھی یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی بہنوں اور خاتون ارکان خاندان کو اس بارے میں آگاہ کریں کیوں کہ یاد رکھئے آپ کے بھی بہنیں ہیں ایک دن آپ بھی لڑکی کے باپ بن سکتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس طرح کی گولی مشروبات میں ملائی گئی ہے یا نہیں اس کا پتہ چلانے کے لیے مختلف طریقہ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ جس کے بارے میں بعد میں رشنی ڈالی جائے گی ۔۔