سڈنی۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے وزیر دفاع اس وقت خود اپنے اوپر غصہ سے آگ بگولہ ہوگئے جب ہزار کوششوں کے باوجود وہ دولت اسلامیہ کے سربراہ کا نام نہیں کہہ سکے اور یہ اس دن کی بات ہے جب انہوں نے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے لڑائی کے لئے مزید آسٹریلیائی افواج بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران وزیر دفاع کیوین اینڈریوز سے دولت اسلامیہ کے سربراہ کا نام بار بار پوچھا گیا جو دراصل ابوبکر البغدادی ہے لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ اس سوال کا راست جواب دینے سے کیوین اینڈریوز کتراتے ہی رہے
اور کہنے لگے کہ وہ کسی بھی آپریشنل معاملات کا حصہ بننا نہیں چاہتے جس پر انٹرویو لینے والے نے ایک بار پھر پوچھا کہ معاملہ آپریشنل نہیں بلکہ پبلک ریکارڈ کا ہے۔ انٹرویو لینے والی دراصل ایک خاتون تھی جس نے وزیر دفاع سے واضح طور پر کہہ دیا کہ منسٹر صاحب کہ آپ ہی اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ کیونکہ آپ نے ہی اس مشن کے لئے آسٹریلیا کی مرد و خواتین کو مصائب سے دوچار کیا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ آپ دولت اسلامیہ کے سربراہ کا نام نہیں جانتے۔ امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ابوبکر البغدادی کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالرس انعام کا اعلان کیا ہے، اس کے باوجود بھی اینڈریوز یہی کہتے رہے کہ دولت اسلامیہ مختلف دہشت گرد تنظیموں کا گروپ ہے جس کے بعد آسٹریلیائی عوام کو شاید یہ پیغام مل گیا کہ ان کے وزیر خارجہ ابوبکر البغدادی کو بالکل نہیں جانتے۔