پرتھ؍ بیجنگ ،11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیائی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے آج کہا کہ حکام اس بارے میں بہت پراعتماد ہیں کہ بحرِہند میںملنے والے سگنلز ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارہ MH370 کے بلیک باکس ہی سے آرہے ہیں۔ چین میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لاپتہ طیارہ کی کھوج میں مصروف ٹیموں نے تلاش کا دائرہ محدود کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک آسٹریلیائی کشتی نے چار مختلف مواقع پر فلائٹ ریکارڈرز سے نشر ہونے والے سگنلوں کی مانند سگنل پائے ہیں۔ تاہم جمعرات کو ملے پانچویں سگنل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایم ایچ 370 کے بلیک باکس سے ہونے کا امکان کم ہے۔ کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ 8 مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے،
جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔ سٹیلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔ لاپتہ طیارے کی تلاش کرنے والی مہم کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے چہارشنبہ کو بتایا تھا کہ ان کی ٹیم کو منگل کی دوپہر اور شام کو ایک بار پھر ’بلیک باکس‘ سے آنے والے سگنل ملے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سگنل ’مخصوص الیکٹرانک آلات‘ سے نشر ہو رہے تھے۔ ’’مجھے یقین ہے کہ ہم لاپتہ طیارے کی صحیح علاقے میں تلاش کررہے ہیں، تاہم یہ تصدیق کرنے سے پہلے کہ ایم ایچ 370 واقعی اسی جگہ گرا ہے، ہمیں پہلے اپنی آنکھوں سے اس کا ملبہ دیکھنے کی ضرورت ہے‘‘۔ وزیراعظم ٹونی نے کہا کہ تلاش میں مصروف ٹیموں کو جلد از جلد معلومات اکٹھی کرنی ہوں گی تاکہ بلیک باکس کی بیٹری ختم ہونے سے پہلے اسے ڈھونڈا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ اب متعدد بار سگنل موصول کرنے کے بعد تلاش کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے کیونکہ اب وہ مرحلہ قریب ہے جب ’بلیک باکس‘ سے سگنل کمزور پڑنا شروع ہو جائیں گے۔