آسٹریلیا میں ماں پر 8بچوں کے قتل کا الزام

ملبورن۔21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے کوئنس لینڈ میں شمالی شہر کوینس میں اپنے پانچ مختلف شوہروں سے پیدا ہونے والے سات کمسن بچوں اور بھانجی کو ہلاک کرنے والی 37سالہ سیاہ فام ماں پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔تمام مقتول بچوں کی نعشیں اس کے گھر میں پائی گئیں جن پر چاقو کے ضربات تھے ۔ کوئنس لینڈ کے ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ مبینہ قاتل ماں مرسانے وریا پر 8بچوں کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے جس سے آج اس شہر کے ایک ہاسپٹل میں ابتدائی پوچھ گچھ بھی کی گئی جہاں وہ چاقو کے زخموں کے علاج کیلئے شریک کی گئی ہے ۔ کوئنس لینڈ کے پولیس سراغ رسانی انسپکٹر برونو آسنیکار کے حوالے سے سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے لکھا ہے کہ ’’ موت کی وجوہات کا انکشاف نہیں ہوا ہے لیکن ہم ان متعدد چاقوؤں کا معائنہ کررہے ہیں جو اس گھر میں دستیاب ہوئے تھے ۔ شبہ ہے کہ یہ چاقو بچوں کو ہلاک کرنے ہتھیار کے طور پر استعمال کئے گئے تھے ۔ دم گھٹنا بھی موت کی ایک وجہ ہوسکتی ہے ‘‘ ۔ مرسانے وریا کو گذشتہ روز اس کے گھر سے بچوں کے نعشوں کی دستیابی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ۔ مہلوکین میں 14اور پانچ سال کی درمیانی عم رکے چار لڑکے اور چار لڑکیاں شامل ہیں ۔ آسنیکار نے کہا کہ ’’ منورہ کی مرے اسٹریٹ پر واقع اس گھر سے مشتبہ قاتل ماں کے ایک 20سالہ بیٹے نے ٹیلی فون پر اس واقعہ کی اطلاع دی تھی جس کے بعد پولیس اس گھر پر پہنچ گئی تھی ‘ جہاں 8کمسن بچوں کی نعشیں بکھری پڑی تھیں اور 37سالہ سیاہ فام ماں بھی چاقو کے ضربات سے زخمی پائی گئی تھی ۔ قتل کے اس مقدمہ کی سماعت دوشنبہ کو کرئینس کی عدالت میں ہوگی لیکن ملزمہ کو عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا گیاہے ۔سڈنی میں گذشتہ ہفتہ ایک مشہور و معروف ہوٹل پر داعش کے حامی واحد ایرانی بندوق بردار کے حملے میں 2یرغمالیوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعہ کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔
6ماہ کی شیرخوار کی جان لینے والی ماں کو 20سال کی قید
سڈنی۔21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا میں ایک ماہ کو 20سال کی سزائے قید دی گئی ہے جس نے 2010ء کے دوران اپنے ہی چھ ماہ کے شیرخوار بچی کو یہ سمجھتے ہوئے باتھ ٹب میں ڈوبا کر ہلاک کردیا تھا کہ وہ ( بچی) جینیاتی نقائص سے متاثر ہے ۔35سال سے زائد عمر کی اس ماں پر الزام تھا کہ نومبر 2010ء کے دوران اس نے اپنی بچی کو اسٹراتھ فیلڈ میں واقع اپنے گھر میں باتھ ٹب میں ڈوباکر ہلاک کردیا تھا ۔ وہ اپنے غلط اندازوں پر پریشان تھی کہ غالباً اس کی بیٹی جینیاتی نقائص کی شکار ہے او راس کی لڑکی کی جسمانی ساخت بونوں جیسی ہوسکتی ہے ۔