کھلے جیلوں کی تیاری ، انسانی حقوق پامال ، خالد سیفی ، ندیم خان ، موہت کے پانڈے و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔23جولائی(سیاست نیوز) نفرت کے خلاف اتحاد’ یو اے ایچ‘ نے دعوی کیاہے کہ آسام میں قومی شہریت کا اندراج ’ این آر سی‘ کے نام پر چالیس سے پچاس لاکھ افراد کو شہریت سے محروم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ‘ جن میں اکثریت خواتین کی ہے اور آسام کو کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔ علاقائی سطح پر چھوٹے چھوٹے قید خانہ بنائے گئے ہیں ‘ عام قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے حقوق کو بھی پامال کردیا گیا ہے ۔ آسام میںشہریت کے اندراج کا بحران دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کی جانب سے بنائے گئے انسانی جیلوں سے خطرناک ثابت ہوگا۔قومی ذرائع ابلاغ کی اس حساس موضوع سے دوری آسامی عوام کے ساتھ کی جارہی سیاسی سازشوں کا حصہ نظر آرہی ہے۔آج یہاں حیدرآباد میں یو اے ایچ کے ذمہ داران جناب خالد سیفی‘ ندیم خان ‘ مسٹر موہت کے پانڈے سابق صدر یو اے ایچ و جے این یو ایس یو‘ لبنی ثروت نے ان کا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آسام کے این آر سی کے تحت کی جارہی دھاندلیوں پر مشتمل ’’ حقائق سے آگاہی رپورٹ‘‘ پیش کیا۔ یواے ایچ کارکنوں کا کہنا ہے کہ آسام میں این آر سی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے اور یہ سلسلہ 2014کے بعد اس وقت زور پکڑا جب ریاست آسام میں بی جے پی کی حکومت برسراقتدار آئی اور مرکز اس کام میںان کی بھر پور مدد کررہا ہے تاکہ حقیقی شہریوں کو بھی معمولی غلطی کی بناء پر شہریت سے محروم کرتے ہوئے اقلیتوں کی آبادی کے تناسب میں اپنے نشانہ کو وہ پورا کرسکیں۔ایچ اے یو کے تحت تشکیل دی گئی حقائق سے آگاہی کمیٹی کی صدرات کرنے والی اترپردیش کے سابق آئی جی پولیس اور ریٹائرڈ آئی پی ایس مسٹر ایس آر دارا پوری نے انگریزوں کے دور میںبنگلہ دیش سے کئی بنگالیوں کو لاکر آسام میںبسایا گیا تھا۔ باغان کاکام زیادہ تر بنگالی لوگ ہی کرتے ہیںاس کے بعد انہیں ریلویز او ردیگر محکموں میںبھی ملازمت کاموقع فراہم کیاگیا۔مگر آزادی او رتقسیم ہند کا واقعہ پیش آنے کے بعد آسام میںیہ پروپگنڈہ شروع کیاگیا تھاکہ آسامی تہذیب پر بنگلہ لسانی تہذیب کاغلبہ بڑھتا جارہا ہے اور یہ معاملہ اس قدرطول پکڑا کہ 1979میںآسام بنام باہر کے لوگوں پر مشتمل تحریک شروع کی گئی اوراس تحریک کو روکنے اور مقامی لوگوں کے خدشات کو ختم کرنے کے لئے 1985میںحکومت ہند نے آسام اکارڈ کی تشکیل عمل میںلاتے ہوئے ’ این آر سی ‘ کی شروعات عمل میںلائی اور اس کے تحت14مارچ1971سے قبل آسام میں داخل ہونے والوں کو ہندوستانی شہری کا درجہ فراہم کیا۔ مگر اسی دوران 1977میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس معاملے میںاسوقت پیچیدگی پیدا کردی جب ووٹرس لسٹ میں ڈی ووٹرس زمرے کا اضافہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈی ووٹرس کا مطلب ’ مشکوک رائے دہندہ‘اس کے بعد جب بھی آسام میںالیکشن منعقد ہوتاتو ڈی ووٹرس کو آسام کی سرحدپولیس اپنی تحویل میںلے کر ’غیرملکی ٹریبونل‘ کو منتقل کرتی جہاں پر انہیں شہریت پر مشتمل گیارہ صداقت ناموں میں کسی ایک صداقت نامہ پیش کرتے ہوئے اپنی شہریت کا ثبوت دینا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ پیدائش کے صداقت ناموں سے لے کر اسکول میںتعلیم حاصل کرنے کے معاملہ تک ان علاقوں کے لوگ خواندگی کی وجہہ سے مشکل حالات کا شکار ہیں۔ ایک ضلع کی لڑکی اگر شادی کے بعد کسی دوسرے ضلع میںجاکر رہتی ہے تو اس کو موجودہ رہائش کے مطابق صداقت نامہ پیش کرنے کا اسرار کیاجارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد اگر اس کے گھریلو نام میںتبدیلی آتی ہے تو اس کے صداقت نامہ کو ناقابل قبول قراردیاجارہا ہے۔ اگر ایک صداقت نامہ سے دوسر ے صداقت نامہ میں الفاظ کی معمولی غلطی پیش آتی ہے تو اس کو بھی قبول کرنے سے این آر سی کے ذمہ دار انکار کررہے ہیں۔مسٹر دارا پوری نے کہاکہ بہرحال ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ این آر سی کی فہرست سے خارج شہریوں کو ان کی شہریت سے محروم کردیاجائے۔ شہریت سے خارج ہونے والوں میں آسام کے سابق ڈپٹی اسپیکر‘ اورسابق جج کے خاندان بھی شامل ہیں ‘ اورمذکورہ خاندانوں کے ناموں کی منسوخی سے این آر سی کی منشاء صاف ظاہر ہورہی ہے ۔ بعد آسام میںبی جے پی حکومت جب سے برسراقتدار آئے ہے وہ ریٹائرڈ جج کے بجائے پانچ سال تک بطور وکیل خدمات انجام دینے والے لوگوں کاتقرر عمل میںلایا ہے جس میں زیادہ تر آر ایس ایس کی ذہنیت کے لوگ شامل ہیں۔جن سے انصاف کی امید ممکن نہیںہے۔ مسٹر دارا پوری نے کہاکہ پانچ سے زائد دستاویزات پیش کرنے والے لوگوں کی شہریت بھی منسوخ کردی گئی ہے جو قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ 31ڈسمبر2017کو این آر سی نے پہلی فہرست جاری کی اور توقع ہے کہ 30جولائی 2018کو این آر سی کی اگلی فہرست جاری ہوگی جس میںشہریت کے بڑے بحران کا خوف ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک تمام لوگوں کو درخواست فارم نہیںمل جاتے اورشہریت کے دستاویزات داخل کرنے کے لئے ایک سال کا وقت نہیں دیاجاتا تب تک این آر سی کو چاہئے کہ وہ اپنی نئی فہرست جاری نہ کرے۔اس کے علاوہ ریاست کے تمام غیرملکی ٹریبونل میںدستور کے مطابق ججوں کا تقرر عمل میںلائے ۔ جناب خالد سیفی نے کہا کہ آسام میں این آرسی آسام کے سرحدی علاقوں میں غربت اور ناخواندگی بہت زیادہ حد تک بڑھی ہوئی ہے ۔ یہاں کی لڑکیوں کی شادی تیرہ اور چودہ سال کی عمر میںکردی جاتی ہے ۔ تعلیم سے محرومی اور کم عمر میںشادی کے بعد وہ دوسرے علاقوں کو منتقل ہوجاتے ہیں جہاںپر انہیںاپنے رہائشی صداقت نامہ حاصل کرنے میںکافی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایسا قید خانہ ہے جہاں پر لوگوں کو قیدیوں جیسی سہولتیں بھی ندارد ہیں۔ کھانے پانی کی فراہمی میںانتظامیہ ناکام ہے اور یہاں تک کہ قیدیوں کو طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ معاشی پسماندگی کی وجہہ سے دو ردراز علاقوں میں قائم کردہ جیلوں میں قید لوگوں سے ملنا بھی ان کے رشتہ داروں کے لئے دشوار کن مرحلہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ این آر سی سے رجوع ہونے پر ہمیںجواب ملا ہے کہ انہو ںنے انٹرنٹ پر تمام تفصیلات شائع کردی ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے جہاں پر دس فیصد لوگ ہی انٹرنٹ کااستعمال کرتے ہیں وہاں پر کس طرح غریب کا شتکار طبقات انٹرنٹ کے ذریعہ یہ جانکاری حاصل کریں گے ۔یو اے ایچ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی شہریت اندراج معاملے میںشفافیت برتے اور مقامی لوگوںکو اپنے صداقت نامہ پیش کرنے کے لئے موثر وقت فراہم کرے اور انٹرنٹ کے بجائے بذریعہ ڈاک یا راست نوٹس کی اجرائی عمل میںلائے تاکہ متاثرین اپنے جوابات داخل کرسکیں۔