انتخابات میں سیکولر جماعتوں کی تائید کیلئے عوام کا فیصلہ، محمد علی شبیر کا ادعا
حیدرآباد۔/13ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر اور سینئر قائد محمد علی شبیر نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں بی جے پی کی جانب سے شروع کی گئی نفرت کی مہم سے کشمیر کے عوام سخت ناراض ہیں اور وہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں سیکولر جماعتوں کی تائید کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ وادی کشمیر میں کانگریس کی انتخابی مہم میں مصروف محمد علی شبیر نے راجوری سے فون پر بتایا کہ کل نماز جمعہ کے موقع پر علماء نے ملک کے مختلف علاقوں میں جبری تبدیلی مذہب اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم پر تنقید کرتے ہوئے تقاریر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر کے مطابق جمعہ کے موقع پر خطاب میں علماء نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بے عملی اور دوہری پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کشمیر میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے نریندر مودی وادی میں ترقی کی بات کررہے ہیں لیکن جموں میں ان کی انتخابی تقاریر نفرت انگیز مہم پر مبنی ہیں۔ مقامی قائدین نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ جموں کشمیر میں قیام حکومت کا خواب دیکھنے والی بی جے پی ملک کے اتحاد و سالمیت سے جڑے مسائل پر دوہرا موقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے قائدین نئی دہلی اور دیگر ریاستوں میں کھل کر نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں لیکن وزیر اعظم ان کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قاصر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ان طاقتوں کے آگے بے بس ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نماز جمعہ کے بعد مقامی علماء و قائدین نے اُن سے ملاقات کے دوران سیکولر جماعتوں کی تائید کا وعدہ کیا۔ مقامی قائدین کا احساس ہے کہ کشمیر میں سیکولر طاقتیں ہی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔ برخلاف اس کے فرقہ پرست طاقتیں وادی کے عوام کیلئے مزید مصیبت کھڑی کردیں گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وادی کشمیر میں مسلمانوں کو بی جے پی سے قریب کرنے کیلئے ترقی کا وعدہ کیا جارہا ہے لیکن عوام کو ان وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے عوام ترقی سے زیادہ امن و سلامتی چاہتے ہیں کیونکہ جب تک وادی میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک ترقی ممکن نہیں ہوگی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کے حق میں عوام کھل کر مہم چلارہے ہیں جبکہ بی جے پی امیدواروں کو وادی میں عوام کا سامنا کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ اگرچہ بی جے پی نے بعض مسلم قائدین کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن انتخابات میں بی جے پی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ گزشتہ عام انتخابات کے مقابلہ کانگریس پارٹی اس مرتبہ مزید بہتر مظاہرہ کے موقف میں ہے اور سونیا گاندھی کی مہم سے کانگریس کا موقف مستحکم ہوا ہے۔راہول گاندھی 16ڈسمبر کو وادی کشمیر میں انتخابی مہم میں حصہ لیں گے جو آخری مرحلہ کی رائے دہی کیلئے ہوگی۔ انتخابی مہم کے اختتام کے بعد محمد علی شبیر حیدرآباد واپس ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران مقامی عوام ان کا والہانہ استقبال کررہے ہیں۔