رامپور 3 مارچ ( پی ٹی آئی ) اتر پردیش کے وزیر اعظم خان نے آج آر ایس ایس سے سوال کیا کہ اس نے جموں و کشمیر میں چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے ساتھ دستور کے دفعہ 370 پر سمجھوتہ کیوں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس آزادی کے بعد سے اس دفعہ پر بیان بازی کرتی رہی ہے ۔ اعظم خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کیوں اور کس طرح پی ڈی پی سربراہ مفتی سعید کے ساتھ دفعہ 370 پر سمجھوتہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اس مسئلہ پر مسلسل اپنے موقف کا اظہار کرتی رہی تھی ۔ اس دفعہ سے کشمیر کو خصوصی موقف حاصل ہوتا ہے ۔ انہوں نے زعفرانی تنظیموں کے قائدین پر تنقید کی اور کہا کہ وہ متنازعہ بیانات اور تبدیلی مذہب کے اقدامات کے ذریعہ ملک کے پرامن ماحول کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کبھی بھی ہندووں کو تلوار کی نوک پر مسلمان نہیں کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ یہ ادعا کرتے ہیں کہ ہندووں کو تلوار کے زور سے مسلمان کیا گیا تھا وہ در اصل خود ہندووں کی توہین کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے افراد پر روک لگانے کی ضرورت ظاہر کی ۔ اعظم خان نے لو جہاد کا نام دے کر کسی جوڑے کے مابین بہترین تعلقات کو متاثر کرنے والے قائدین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ در اصل محبت کے معنی نہیں جانتے ۔ لو جہاد کے نام پر یہ لوگ ایک مرد اور ایک عورت کے مابین ایک مقدس رشتہ کو متاثر کرنا چاہتے ہیں ۔