آر ایس ایس قائدین سے نریندر مودی ناراض،استعفیٰ کی دھمکی

نئی دہلی 21 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس قائدین کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آجائیں تو وزارت عظمی کا عہدہ چھوڑ دیں گے ۔ متنازعہ ریمارکس کو فوری روک دیا جائے اب ان کی من مانی نہیں چلے گی ۔ وزیر اعظم نے سمجھا جاتا ہے کہ آر ایس ایس یا سنگھ پریوار کے قائدین کے حالیہ متنازعہ بیانات پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ زبردستی تبدیلی مذہب کے مبینہ واقعات پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ہونے والے شدید احتجاج اور تنقیدوں کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے استعفی دینے سے متعلق سخت فیصلہ کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ مراٹھی اخبار مہاراشٹرا ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس قائدین کا ایک اجلاس منعقد کیا اور اپنی شدید ناراضگی سے واقف کروایا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سنگھ پریوار کے لوگ اپنے متنازعہ و دل آزار بیانات سے باز نہ آئیں تو وہ وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفی دیں گے ۔

ان کی حکومت کے امیج کو دھکہ پہونچانے والے بیانات نا قابل برداشت ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میری حکومت ان کی وجہ سے بد نام ہوجائے ۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس نے وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کو سمجھتے ہوئے من مانی بیانات دینے والے قائدین کے خلاف کارروائی کرنے کی حکومت کو اجازت دیدی ہے جو لوگ متنازغہ بیانات دیں گے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔ میل ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم مودی نے آر ایس ایس کے اعلی قائدین سے کہہ دیا ہے کہ ان کی حکومت کی امیج ان کیلئے اہم ہے لیکن سنگھ پریوار کے چند قائدین کے من مانی بیانات سے ان کی حکومت بد نام ہورہی ہے ۔ ان کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ داخلی طور پر حکومت کا موقف کمزور ہوتا جارہا ہے ۔

متنازعہ بیانات سے ان کی حکومت پر فاشسٹ یا فرقہ پرست ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ حال ہی میں سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ دیگر تنظیموں نے متنازعہ بیانات دیئے تھے خاص کر آر ایس ایس کے چند قائدین کے فرقہ پرستانہ ریمارکس سے مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقع ملا ہے اسی لئے مودی نے اس طرح کے بے ہودہ بیانات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ آر ایس ایس جس نے اس معاملہ میں مداخلت کی ہے مودی کو تیقن دیا ہے کہ وہ بھی ان قائدین کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جنہوں نے متنازعہ ریمارکس کئے ہیں ۔ تاہم وزیر اعظم مودی کی ناراضگی ایک سطحی ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنی حکومت کی بالادستی کو منوانے کا مظاہرہ کیا ہے ۔ عوام کے بہبودی مسائل پر توجہ دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی حامی تنظیمیں ان کے منصوبوں پر پانی پھیرنے والی حرکتیں کررہی ہیں ۔ اس دوران وزیر اعظم کی اس ناراضگی کے باوجود آر ایس ایس کی محازی تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا کہ وہ ملک میں ہندوؤں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے تک خاموش نہیں بیٹھے گی ہندوؤں کے اقدار کو بحال کیا جائے۔

ہم ساری دنیا کو ہندو مذہب میں تبدیل کرنا نہیں چاہتے بلکہ صرف ہم ان کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک کتاب کی رسم اجراء کے دوران اشوک سنگھل وی ایچ پی لیڈر نے کہا کہ ان کی جدوجہد کی وجہ سے ہی گذشتہ 50 سال کے دوران ہندوؤں نے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ دوبارہ حاصل کرلیا ہے ۔ 800 سال بعد دہلی کا راج ہم کو ملا ہے ۔ ہمارا مذہب اور کلچر ماضی میں تاریکی کی نذر کردیاگیا تھا لیکن ہم نے سخت محنت کی اور جدوجہد کی وجہ سے 800 سال بعد راج پاٹھ ملا ہے۔ یہ دن آچکا ہے جس میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں ایک حکومت آئی ہے جو ہندوتوا کا تحفظ کرنے کی پابند عہد ہے ۔ ہمارے اقدار اور ہماری تہذیب کو استحکام بخشے گی ۔ ہم ایک طاقتور ہندو سماج بنانا چاہتے ہیں جو ساری دنیا کی بہبود کیلئے کام کرے ۔

یہ ہندو سماج اپنے اقدار کے مطابق ساری دنیا کی آبادیوں کے دل جیت لے گا ۔ اشوک سنگھل نے حالیہ تبدیلی مذہب واقعہ پر پیدا شدہ تنازعہ کے جواب میں کہا کہ ہم اس دنیا کو ہندو مذہب میں تبدیل کرنا نہیں چاہتے بلکہ صرف دنیا والوں کے دل جیت لینا چاہتے ہیں ۔ بی جے پی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راجپوت کے راجہ پرتھوی راج چوہان کے بعد 12 ویں صدی میں دہلی کا تخت و تاج ہم کھوچکے تھے اب دہلی میں ہندوؤں کا راج بحال ہوا ہے ۔ انہو ںنے دعوی کیا کہ مختلف طاقتیں دنیا پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں ۔ اس کی وجہ سے ایک عالمی جنگ کے قریب پہونچ چکی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آسٹریلیا اور وسط ایشیاء میں کیا ہورہا ہے ۔ یوروپ میں اسلامی دہشت گردی کے خطرے کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس جنگ کو روکا جاسکتا ہے لیکن مختلف طاقتیں جس طریقہ سے دنیا میں اپنے اقتدار کے حصول کیلئے لڑرہی ہیں اس سے ایک عالمی جنگ ناگزیر دکھائی دیتی ہے انہوں نے کہا کہ ایسی جنگ میں ہندو حصہ نہیں لیں گے بلکہ ہندو سماج ان کے دلوں کو جیت لینے کیلئے جدوجہد کرے گا۔