حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اڈیشہ کا رد عمل
حیدرآباد /19 ستمبر ( راست ) مرکزی کابینہ کی جانب سے تین طلاق کو ایک آرڈیننس کے ذریعہ قانونی طور پر قابل سزا بنانے کے مرکزی حکومت کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولانا حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اڈیشہ نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اس بل کو مسترد کئے جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے چور راستوں کو اپناتے ہوئے اسے قابل عمل بنانے کی کوشش اسلام شریعت اسلامی ، مسلم پرسنل لاء اور مسلمانوں کے خلاف حکومت کی مسموم ذہنیت کی آئینہ دار ہے ۔ جماعت اسلامی ہند ہر سطح پر اس آرڈیننس کے خلاف جدوجہد کرے گی اور آئینی کوششوں کے علاوہ عوامی بیداری بھی پیدا کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین طلاق سے متعلق بل آئین اور شریفانہ روایات و اقدار کے خلاف ہے اور اس سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ اس مجوزہ بل میں سیول لاء اور کریمنل لاء کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ۔ اس بل سے مسلم خواتین کو فائدہ کم لیکن بی جے پی کو فائدہ ضرور پہونچے گا ۔ خفیہ راستوں سے اس قانون کو نافذ کرنے کی کوشش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت مشاورت اور مذاکرت پر یقین نہیں کرتی ۔ سیاسی جماعتوں ارکان پارلیمان اور مسلمانوں کو مکمل اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کا کوئی بھی آرڈیننس ملک میں اچھی فضاء پیدا نہیں کرے گا ۔ مولانا حامد محمد خان نے مودی حکومت کی اس مذموم حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔