آدھار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

فاصلے ختم ہوگئے سارے
دوبدو بات ہوگئی یارو
آدھار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ
ملک میں آدھار کارڈ کے استعمال پر ملک کی عدالت العالیہ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے ایک طرح سے توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک طرف جہاں سرکاری استعمال کیلئے سپریم کورٹ نے اجازت دی ہے وہیں اس نے خانگی ہاتھوں تک عوام کی معلومات اور ڈاٹا کے پہونچنے کو روکنے کا کام بھی کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بینک کھاتوں کیلئے ‘ اسکولس میں داخلوں کیلئے ‘ اعلی امتحانات تحریر کرنے کیلئے اور موبائیل فون کنکشن کے استعمال کیلئے آدھار کے استعمال کو لازمی قرار نہیںدیا ہے اور اب خانگی کمپنیاں یا بینکوںکی جانب سے صارفین کو آدھار کے نام پر ہراساں نہیں کیا جاسکتا بلکہ اب تو یہ بھی گنجائش فراہم ہوگئی ہے کہ جو بینکوں میں اور موبائیل کمپنیوں میں جن صارفین کا آدھار درج کیا گیا ہے ان کی تفصیلات کو فوری طور پر حذف کروایا جائے ۔ جہاں تک حکومت کی ایجنسیوں کی جانب سے آدھار کے لزوم کا سوال ہے تو حکومتوں کو اس کا اختیار ہوسکتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی اجازت دیدی ہے کیونکہ حکومتوں سے آدھار ڈاٹا کے انکشاف یا بیجا استعمال پر سوال ہوسکتا ہے اور اسے کٹہرے میںلا کھڑا کیا جاسکتا ہے جبکہ خانگی کمپنیاںاس تفصیل اور ڈاٹا کا بیجا استعمال کرسکتی ہیں اور اس کی مثالیں بھی ہمارے سامنے پیش آچکی ہیں۔ ایسے میںسپریم کورٹ نے جو رولنگ دی ہے وہ بڑی حد تک توازن برقرار رکھنے والی رولنگ کہی جاسکتی ہے کیونکہ جہاں حکومت کو سرکاری اسکیمات اور خاص طور پر فلاحی اسکیمات سے استفادہ کیلئے آدھار کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے وہیں خانگی کمپنیوں کو اس سے عملا دور کردیا گیا ہے ۔ اب اہم بات یہی ہے کہ جس طرح سے سپریم کورٹ کی رولنگ آئی ہے اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے خانگی کمپنیوں کو سپریم کورٹ رولنگ پر عمل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جائیں تاکہ صارفین کو جو آدھار کے نام پر ہراسانیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ ہوسکے ۔ اس کے علاوہ جن خانگی اداروں اور کمپنیوں کے پاس اب تک آدھار کا اندراج ہوچکا ہے اس کو حذف کرنے کیلئے بھی حکومت ایک موثر اور جامع میکانزم کے ساتھ ان کو ہدایات جاری کرے ۔
آدھار کا جہاں تک سوال ہے اب اسے اس قدر مروج کردیا گیا ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی سرکاری کام ممکن نظر نہیں آتا ۔ خود سپریم کورٹ کی رولنگ میں بھی یہی تاثر دیا گیا ہے ۔ عوام کی پرائیویسی اور ان کے حقوق کے تحفظ میں سپریم کورٹ کی رولنگ ایک مرکزی مقام رکھتی ہے اور اسے کافی اہمیت حاصل ہے لیکن شرط یہی ہے کہ حکومت اس رولنگ پر من و عن عمل آوری کو یقینی بنائے ۔ سابق میں ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہی تھا کہ سرکاری اور خانگی بینکوں اور موبائیل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو آدھار کی تفصیلات کے اندراج کیلئے مجبور کیا گیا تھا جبکہ قانونی طور پر ایسی کوئی شرط نہیں تھی ۔ اس کے باوجود عوام کو اور صارفین کو مجبور کیا گیا ۔ جب کروڑہا ہندوستانیوں نے یہ شرائط پوری کردیں تو اس ڈاٹا کے بیجا استعمال اور اس کے انکشاف کے واقعات بھی سامنے آئے تھے اور اس کے ازالہ کیلئے کوئی ٹھوس اور موثر اقدامات بالکل نہیں کئے گئے تھے ۔ اب سپریم کورٹ کی رولنگ کے بعد صورتحال بہت زیادہ واضح ہوگئی ہے اور ایک واضح تصویر سامنے آگئی ہے تو جن خانگی کمپنیوں نے عوام سے ان کی آدھار تفصیلات پہلے ہی حاصل کرلی ہیں انہیںجوابدہ بنانا چاہئے اور عوام کی تفصیلات کو ان کے پورٹلس وغیرہ سے پوری طرح حذف کروانا چاہئے اور یہ کام حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے حکومت عوام میں ایک طرح کی اطمینان کی صورتحال بحال کرسکتی ہے ۔
ایک اور سب سے اہم پہلو حکومت کیلئے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت ملک میں فہرست رائے دہندگان کو آدھار سے مربوط کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سرکاری اسکیمات کیلئے آدھار کے استعمال کی اجازت دیدی ہے اور الیکشن کمیشن ایک ذمہ دار اور باوقار ادارہ ہے ۔ اس کو ملک بھر کے رائے دہندوں کے آدھار کی تفصیلات کو فہرست رائے دہندگان سے مربوط کرنے کیلئے سفارش کی جاسکتی ہے تاکہ رائے دہندوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوسکے اور فہرستوں میں الٹ پھیر کرتے ہوئے اور فرضی ووٹرس کا اندراج کرواتے ہوئے انتخابات میںدھاندلیاںکرنے والوں پر بھی ایک طرح کی روک لگ سکے اور ایسا کرتے ہوئے ملک کی جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔