شہر کی کئی سڑکوں پر تعمیراتی اشیاء نے ٹرافک جام کو سنگین مسئلے میں بدل دیا
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد کے درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں جی ایچ ایم سی کی جانب سے سڑکوں کی مرمت ، پانی کی نکاسی اور مین ہولس کی درستگی کا کام جاری ہے اور جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کو برستے پانی میں سڑکوں کی مرمت کرتے ہوئے کئی اخبارات میں تصاویر بھی شائع کی جارہی ہیں جن کے متعلق سوشیل میڈیا پر ان عہدیداروں کی ’ واہ واہ ‘ بھی ہورہی ہے لیکن سکہ کے دو رخ کے مترادف اخبارات میں جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کی برستے پانی میں جدوجہد اور سوشیل میڈیا پر ان کی ’ واہ واہ ‘ کے برخلاف عوام میں ان کی حرکتوں کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ رسول پورہ تا رانی گنج ، تاڑبن تا باپو جی نگر ، سوچترا سرکل سے قطب اللہ پور کے علاوہ جوبلی ہلز ، یوسف گوڑہ ، بیگم پیٹ سرکل ، نامپلی ، ملے پلی ، ٹولی چوکی ، ریاست نگر ، یاقوت پورہ اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی مرمت کا کام گذشتہ چند دن قبل شروع کیا گیا ہے جس سے ٹرافک مسائل اور سنگین ہوگئے ہیں ۔گیالکسی کار ڈیکور کے مالک عبدالقدیر نے انتظامیہ کی نا اہلی پر تعجب کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کی مرمت سے زیادہ انہیں برسات میں عہدیداروں کی جانب سے تعمیراتی کاموں پر حیرت ہوتی ہے ۔ عبدالقدیر نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رانی گنج تا رسول پورہ سڑک بہتر نہ سہی لیکن اتنی بدترین بھی نہیں تھی کہ اسے فورا تعمیر کے لیے بند کردیا جاتا ۔ برسات کے پانی ، لب سڑک ریتی ، کنکر اور دیگر تعمیراتی اشیاء نے یہاں کے حالات سنگین کردئیے ہیں ۔ اس سڑک پر مشہور دواخانہ نمس بھی موجود ہے اور یہاں ایمبولنس سے آنے والے مریضوں کو پریشانی ہورہی ہے ۔ نلہ گٹہ چوراستہ پر موجود اسٹار ہوٹل کے مالک اکرم خاں ( نام تبدیل ) نے حیرت بھرے انداز میں کہا کہ ’ ان لوگوں کو برسات میں ہی تعمیر کا خیال کیوں آتا ہے ‘ ۔ حالانکہ موسم گرما میں یہ سڑک کسی قدر سنسان رہتی ہے کیوں کہ اس علاقے میں کئی خانگی اور سرکاری اسکولس بھی ہیں اور تعطیلات کی وجہ سے ٹرافک میں کمی ہوتی ہے اس وقت سڑک کی مرمت ، سمنٹ اور ڈامبر ڈالا جاسکتا ہے ۔ شہر کے دیگر علاقوں کے عوام کو بھی اس سوال کے جواب کا انتظار ہے ۔ آخر کیوں برسات میں ہی سڑکوں کی مرمت ہوتی ہے ؟ ۔۔