پورواگرو کی غزلیات ، دوبئی کے سید سروش آصف کی شرکت
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : دکن کی تہذیبی اقدار کی نامور ہستی اپنے فکر و فن کی گہرائی سے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنانے والی نامور شخصیت نواب شاہ عالم خاں مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے والا یادگار مشاعرہ 16 فروری ہفتہ شام 7 بجے انوارالعلوم کالج ملے پلی میں مقرر ہے ۔ نشست اول میں مشہور گلوکارہ پورواگرو داغ دہلوی کا کلام نجم الدین جاوید کے ساز پر پیش کریں گی ۔ اس کے بعد جسٹس بلال نازکی کی صدارت میں مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آئے گا ۔ ڈاکٹرس کی اجازت نہ ملنے کے سبب منور رانا شریک نہ ہوسکیں گے ۔ دوبئی کے مشہور شاعر سید سروش آصف پہلی بار حیدرآباد آرہے ہیں ۔ وسیم بریلوی ، نواز دیوبندی ، منظر بھوپالی ، محترمہ لتا حیا ، پاپلر میرٹھی ، اقبال اشھر ، انا دہلوی ، عباس تابش ، خالد قیصر آئی پی ایس ، الوک سریواستو اور جلیل نظامی کے علاوہ مقامی شعراء آغا سروش ، فاروق شکیل ، سردار سلیم ، محسن جلگانوی ، کوکب ذکی اور وحید پاشاہ قادری حصہ لیں گے ۔ سرپرست مشاعرہ نواب محبوب عالم خاں نے شائقین غزل سے اپنے پسندیدہ شعراء کے کلام سے جو ساری اردو دنیا میں پسند کیا جاتا ہے خاطر خواہ لطف اندوز ہوتے ہوئے اس شام کو یادگار بنانے کی خواہش کی ہے ۔ نواز دیوبندی کی غزل ’تیرے آنے کی جب خبر مہکے ۔ تیری خوشبو سے سارا گھر مہکے ‘ جگجیت سنگھ کی آواز نے اسے ساری دنیا میں مقبولیت بخشی ۔ وسیم بریلوی کی جدید لب و لہجے کی شاعری ’ عجب احساس ہے گرد گناہ چھو کر بھی گذر جائے ۔ تو اپنے آپ کو ہم دیر تک میلے لگتے ہیں ‘ دلوں کو گرما دیتی ہے ۔۔