فرینکفرٹ، 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) لگ بھگ 60 جرمن شہری شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ گروپ کے جھنڈے تلے لڑتے ہوئے مارے جاچکے ہیں، جرمن ڈومیسٹک انٹلیجنس سروس کے سربراہ نے آج یہ بات کہی۔ ہانس۔ جارج ماسن نے ایک جرمن اخبار کو بتایا کہ جرمنی سے تقریباً 60 افراد مارے گئے یا اُن میں سے کم از کم نو خودکش حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ انھوں نے ریمارک کیا کہ اسلام پسندوں کے پروپگنڈے کیلئے یہ بُری کامیابی ہے۔ دریں اثناء جرمن وزیر داخلہ ٹومس ڈومیزییر نے انکشاف کیا ہے کہ اُن کے ملک سے تعلق رکھنے والے 550 شدت پسند بھی دولت اسلامی ’داعش‘ میں شامل ہونے کیلئے عراق اور شام روانہ ہو چکے ہیں۔ جرمن ٹیلی ویژن نٹ ورک ’’فونیکس‘‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ تازہ ترین اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ جرمنی سے 550 افراد داعش میں شامل ہونے کیلئے شام اور عراق چلے گئے ہیں۔ قبل ازیں جرمنی حکام کی جانب سے داعش میں شامل ہونے والے جنگجوئوں کی تعداد 450 بتائی گئی تھی۔ وزیر داخلہ ڈومیزییر کا کہنا تھا کہ پچھلے چند برسوں کے مقابلے میں رواں سال بڑی تعداد میں شدت پسندانہ نظریات کے حامل افراد داعش میں شامل ہونے کیلئے بیرون ملک روانہ ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ خواتین بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ داعش میں شامل ہونے والے جرمن جنگجو خود واپسی پر خود ان کے ملک کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر وہ سخت ترین حفاظتی تدابیر پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی جرمنی میں 230 ایسے عناصر موجود ہیں جو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔