آئی ایس کیخلاف فضائی کارروائیوں میں ڈرامائی اضافہ

واشنگٹن ؍ انقرہ ، 16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ترک سرحد کے قریب واقع شامی کرد علاقے کوبانی پر حملہ آور شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے خلاف امریکی قیادت میں اتحادی فضائی کارروائیوں میں انتہائی تیزی آ گئی ہے۔ خبر رساں ادارہ روئٹرز نے شہر کے دفاع میں مصروف کرد فورسز کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی افواج کو اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اتحادی طیارے اس دہشت گرد تنظیم کے عسکریت پسندوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ کرد جنگجوؤں کی زبردست مزاحمت اور اتحادی فضائی حملوں کی وجہ سے اسلامک اسٹیٹ کی پیش قدمی واضح حد تک سست ہوئی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف امریکی قیادت میں قائم وسیع تر بین الاقوامی عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں کوبانی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جہادیوں کے خلاف لگ بھگ 40 حملے کئے گئے۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں یہ کارروائیاں تین گنا زیادہ ہیں۔ اسلامک اسٹیٹ گزشتہ چار ہفتوں سے کرد اکثریتی علاقے کوبانی کا محاصرہ کئے ہوئے ہے، تاہم اپنے شہر کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں کی زبردست مزاحمت کی وجہ سے اسلامک اسٹیٹ جدید اسلحے اور انتہائی تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کے باوجود اس شہر پر قبضہ کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کردیا ہے کہ اگر یہ دہشت گرد تنظیم کوبانی پر قبضے میں کامیاب ہوگئی تو شہر میں بڑے پیمانے پر مقامی آبادی کا قتل عام ہو سکتا ہے۔

سینکڑوں عسکریت پسند ہلاک مگر خدشات برقرار
امریکی محکمۂ دفاع پنٹگان نے گزشتہ روز بتایا کہ کوبانی پر حملہ آور ہونے والے سینکڑوں عسکریت پسند اتحادی فضائی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم یہ شہر اب بھی اسلامک اسٹیٹ کے قبضے میں جا سکتا ہے۔ پنٹگان کے ترجمان ریئرایڈمرل جان کِربی نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے اتحادی طیاروں کو اپنی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ کوبانی شہر کا کنڑول اب بھی کرد جنگجوؤں کے پاس ہے اور کچھ علاقوں پر ہی اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسند قابض ہوپائے ہیں۔ کِربی نے بتایا کہ اب کوبانی شہر میں چند سو عام شہری ہی موجود ہیں اور زیادہ تر شہری ترک علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔