اسلام آباد ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے ایک سینئر جج کو جو آئندہ ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے والے متوقع امیدواروں میں شامل تھے، اس ملک کے طاقتور جاسوس ادارہ آئی ایس آئی کے بارے میں ان کے متنازعہ بیان پر برطرف کردیا گیا۔ انہوں نے اس بیان میں کہا تھا کہ انٹرسرویسس انٹلیجنس (آئی ایس آئی) اپنے من پسند فیصلے صادر کروانے کیلئے عدلیہ میں الٹ پھیر اور توڑجوڑ کررہی ہے۔ سپریم جوڈیشیل کونسل (ایس جے سی) جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے جو آئی ایس آئی کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی اپنی تقریر پر ضابطہ کی مبینہ خلاف ورزی اور غلط رویہ اختیار کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ کا سامنا کررہے تھے۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو گذشتہ روز برطرف کردیا۔ جسٹس صدیقی نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن سے 21 جولائی کو خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’’عدلیہ اور میڈیا آج کل نہیں رہی۔ حتیٰ کہ میڈیا کو بھی فوج سے ہدایات ملنے لگے ہیں۔ میڈیا سچ نہیں بول رہا ہے کیونکہ وہ بھی دباؤ میں ہے۔ مختلف مقدمات میں اپنی مرضی کے مطابق مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے آئی ایس آئی اپنی من پسند بنچیس قائم کر رکھی ہے‘‘۔ یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف شکایات سے نمٹنے والے ادارہ سپریم جوڈیشیل کونسل سے رجوع کیا گیا تھا اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی قیادت میں پانچ رکنی بنچ اس کی سماعت کررہی تھی۔