واشنگٹن 11 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) وائیٹ ہاوز نے آج امریکہ کے ایک معروف صحافی کے اس انکشاف کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے ادعا کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک کارکن نے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد امریکی کمانڈوز کے ایک حملے میں انہیں ہلاک کردیا گیا ۔ میڈیا کی ایک رپورٹ میں امریکی تحقیقاتی صحافی و مصنف سیمئور ایم ہیرش کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ ایک سابق پاکستانی انٹلی جنس عہدیدار نے اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے کا سی آئی اے کو پتہ دیا تھا ۔ یہ انکشاف انہوں نے اسامہ کے سر پر رکھ گئے 25 ملین ڈالرس کے انعام کے عوض میں کیا تھا ۔ پاکستانی روزنامہ ڈان نے ایم ہیرش کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا کہ اگسٹ 2010 میں ایک سابق پاکستانی انٹلی جنس عہدیدار نے جوناتھن بینک یس رابطہ کیا تھا جو اس وقت اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف تھے ۔ انہوں نے یہ پیشکش کی تھی کہ اسامہ کے سر پر جو انعام رکھا گیا ہے اس کے عوض وہ اسامہ کا پتہ بتاسکتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کو 2 مئی 2011 کی رات ایبٹ آباد میں امریکہ کے ایک حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ امریکی حکومت نے تاہم صحافی کے اس ادعا کو مسترد کردیا ہے ۔ وائیٹ ہاوز کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ایڈورڈ پرائس نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ اس اطلاع میں کئی باتیں غلط اور بے بنیاد ادعا جات ہیں ۔انہوں نے ادعا کیا کہ یہ خیال بھی یکسر غلط ہے کہ جس کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا ہے وہ امریکہ کی یکطرفہ کارروائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کئی موقعوں پر ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ اس کارروائی کا علم امریکہ کے صرف چند سینئر عہدیداروں کو ہی ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر امریکہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کارروائی کی کسی اور حکومت بشمول پاکستان کو اطلاع نہ دی جائے ۔ حکومت پاکستان کو اس حملے تک کوئی اطلاع نہیں دی گئی ۔ ہم پاکستان کے ساتھ القاعدہ کو تباہ کرنے کے مشن کا حصہ ہیں لیکن یہ کارروائی صرف امریکہ کی تھی ۔ صحافی ایم ہیرش نے ادعا کیا کہ اسامہ کا پتہ چلانے سی آئی اے کی مدد کرنے والے فزیشن ڈاکٹر شکیل آفریدی حالانکہ سی آئی اے کا اثاثہ تھے لیکن انہیں بھی اس کارروائی سے لا علم رکھا گیا تھا ۔ ہیرش نے کہا کہ آفریدی کو حقائق کو پوشیدہ رکھنے استعمال کیا گیا تھا ۔