واشنگٹن 22 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر براک اوباما کا آئندہ سال جنوری میں دورہ ہندوستان باہمی حکمت عملی شراکت اور تعلقات کو مستحکم کرنے اور انہیں مزید وسعت عطا کرنے کا ایک زبردست موقع ہے ۔ اوباما آئندہ سال جنوری 2015 میں ہندوستان کی یوم جمہوریہ تقاریب کے مہمان خصوصی ہوں گے ۔ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں اور ماہرین نے اس خیال کا اظہار کیا ہے ۔ قومی سلامتی کی مشیر سوسان رائیس نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی امریکی صدر ہندوستان کی یوم جمہوریہ تقاریب میں شرکت کرے گا۔ یہ تقریب ہندوستان میں دستور کی منظوری کے موقع پر وہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے وہ ہندوستان کے ساتھ حکمت عملی شراکت کو مستحکم کرنے اور اسے مزید وسعت دینے کے عہد کا پابند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما اس دورہ کے منتظر ہیں تاکہ یوم جمہوریہ تقاریب میں شرکت کرسکیں۔ نائب قومی سلامتی مشیر برائے حکمت عملی مواصلات اور اوباما کے قریبی و بااعتماد سمجھے جانے والے رفیق کار بن رہوڈس نے کہا کہ صدر اوباما کو ہندوستان میں یوم جمہوریہ تقاریب میں شرکت کرنے کا اعزاز مل رہا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی قریبی نوعیت کی مثال ہے ۔ سبکدوش امریکی سفارتکار ٹریسیٹا شافر نے کہا کہ یہ ایک عظیم موقع ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بہتر ‘ موثر اور مستحکم بنایا جاسکے ۔
شافر نے اپنے بلاگ پر تحریر کیا ہے کہ یہ ایک بڑا موقع ہے۔ اوباما دنیا کی بہترین سمجھی جانے والی پریڈ کا مشاہدہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان تقاریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کرنا ہندوستان کی جانب سے دیا جانے والا سب سے باوقار دعوت نامہ ہے ۔ گزشتہ سال یوم جمہوریہ تقاریب میں جاپان کے وزیر اعظم کو مدعو کیا گیا تھا۔ اوباما امریکہ کے ایسے پہلے صدر ہوں گے جنہیں اس انداز میںاعزاز حاصل ہوگا اور وہ اپنے دور صدارت میں ہندوستان کا دو مرتبہ دورہ کرنے والے بھی امریکہ کے اولین صدر ہوں گے۔ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمن نے اوباما کی جانب سے اس دعوت نامہ کو قبول کرنے کو ایک بڑی خبر قرار دیا ہے اور کہا کہ افغانستان میں حالات کو دیکھتے ہوئے اس دورہ سے ایک پیام جائے گا ۔ تاہم وال اسٹریٹ جرنل نے دہلی سے موصولہ اپنے ڈسپیاچ میں کہا کہ یہ دورہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں بہتری کی علامت ہے ۔ یہ بہتری نریندر مودی کے ستمبر میں دورۂ امریکہ کے بعد آنے لگی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چوٹی ملاقات عہدیداروں کے خیال میں دونوں ہی قائدین کیلئے ایک موقع ہوگی کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات خاص طور پر سکیوریٹی سے متعلق تعلقات کو مزید مستحکم کریں اور انہیں وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے ۔