آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل کئی اسکولس کا انضمام

طلبہ کے کم تعداد والے اسکولس دوسرے اسکولس میں منتقل کردئیے جائیں گے : حکومت کے اقدامات
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ کی جانب سے آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل طلبہ کی تعداد جن سرکاری اسکولوں میں کم ہے انہیں بند کرتے ہوئے قریب ترین اسکول میں موجودہ طلبہ کو منتقل کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ ماہ ستمبر 2014 میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او 6 کے مطابق جن سرکاری پرائمری اسکولوں میں 20 سے کم اور ہائی اسکول میں 75 سے کم طلبہ کی تعداد ہے انہیں بند کرتے ہوئے قریب کے اسکول میں ضم کردیا جائے گا ۔ عہدیداروں کے بموجب جاریہ تعلیمی سال کے فوری بعد ان اقدامات کا آغاز ہونے کی صورت میں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز پر تقریبا 4200 اسکولوں کو بند کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں انتہائی کم تعداد میں طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اساتذہ کی مختلف تنظیموں و یونینوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کی جارہی ہے لیکن حکومت اپنے فیصلہ پر برقرار رہتے ہوئے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے ۔ اردو زبان سے تعلق رکھنے والے اسکولس کے متعلق ان احکامات میں صراحت نہیں ہے لیکن کسی بھی لسانی اقلیتی اسکول کو حکومت کی جانب سے بند نہیں کیا جاسکتا ۔ اردو داں طبقہ کی جانب سے اردو اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اب ان کی حفاظت کے لیے بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کے مطابق ریاست میں 19000 سرکاری اسکول موجود ہیں جن میں 4200 ایسے اسکول ہیں جن میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہے ۔ ان اسکولوں میں موجود طلبہ کو حکومت کے منصوبہ و احکامات کے مطابق قریب ترین اسکول منتقل کردیا جائے گا ۔ ذرائع کے بموجب 800 سرکاری اساتذہ ایسے اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد صفر ہے ۔ اسی لیے ان 800 اساتذہ کے تبادلوں اور جن اسکولوں میں اساتذہ کی ضرورت ہے وہاں تقررات پر غور کیا جارہا ہے ۔ دستور ہند میں حاصل اقلیتوں کو اختیارات کے مطابق وہ بھی دیگر طبقات کے مساوی حصول علم کا حق رکھتے ہیں ۔ حکومت آندھرا پردیش نے 4 جولائی 1977 میں ایک جی او ایم ایس نمبر 472 جاری کرتے ہوئے یہ احکام دئیے تھے کہ جہاں اردو زبان میں حصول علم کے لیے 10 بچے موجود ہوں وہاں ایک پرائمری اسکول ہونا چاہئے اور جس مقام پر 45 طلبہ موجود ہوں وہاں ہائی اسکول قائم کیا جائے ۔ ان احکامات پر 2002 نومبر میں از سر نو غور کرنے کے بعد اسی فیصلہ کو برقرار رکھا گیا اور ڈائرکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے حکومت کے جی او ایم ایس 472 پر عمل آوری کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ جی او 6 سابق کے اس جی او سے تقریبا دو گنی تعداد میں طلبہ کے اضافہ کو حد بنائے ہوئے ہے اس لیے اردو میڈیم اسکولوں کی برقراری اور انہیں جی او 6 کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اردو زبان سے ہمدردی رکھنے والے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فہرست کا جائزہ لیں جس میں 4000 سے زائد اسکولوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اساتذہ کے علاوہ اردو زبان کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی جانب سے اس خصوص میں محکمہ تعلیم کو یادداشتیں پیش کی جاچکی ہیں ۔ حکومت کو اس معاملہ میں سنجیدہ اقدامات کے ذریعہ اردو میڈیم اسکولوں کو تعداد کے نام پر نشانہ بنانے کے بجائے انہیں بہتر بناتے ہوئے طلبہ کی تعداد میں اضافہ کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر غور کرے ۔۔