ٹی آر ایس کی حکومت عملی، کانگریس کے تازہ موقف کی مخالفت کرنے وزراء اور قائدین کو ہدایت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں فکرمند برسر اقتدار ٹی آر ایس کو کانگریس کے خلاف مہم کیلئے ایک نیا ہتھیار مل چکا ہے۔ کانگریس کی جانب سے آندھراپردیش کے خصوصی موقف کی تائید کے بعد سے اس مسئلہ کو عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے مخالف تلنگانہ پارٹی کی حیثیت سے مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزراء اور قائدین کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر سطح پر کانگریس کے اس موقف کو عوام میں بے نقاب کریں تاکہ پھر ایک مرتبہ اسے مخالف تلنگانہ پارٹی کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ کانگریس نے نہ صرف پارلیمنٹ میں آندھراپردیش کے خصوصی موقف کے مطالبہ کی تائید کی بلکہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اس بارے میں قرارداد منظور کی گئی۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کے نتیجہ میں تلنگانہ کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلات عوام میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ٹی آر ایس 2019 ء کے انتخابات میں پھر ایک مرتبہ تلنگانہ کے جذبات کا سیاسی استحصال کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء اور قائدین کو تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تفصیلات کے علاوہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کی صورت میں تلنگانہ کی ترقی متاثر ہونے سے متعلق تفصیلات پر مبنی نوٹ حوالے کیا گیا تاکہ روزانہ کسی نہ کسی موقع پر کانگریس کو نشانہ بنایا جاسکے۔ ایسے وقت جبکہ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں اپنا موقف بہتر بنانے کی سمت گامزن تھی، کانگریس ہائی کمان کے فیصلہ نے پارٹی قائدین کو دفاعی موقف میں ڈال دیا ہے۔ کانگریس قائدین اگرچہ دبے الفاظ میں ہائی کمان کے فیصلہ کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن وہ کھل کر کہنے سے گریزاں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے کانگریس ہائی کمان سے نمائندگی کی جارہی ہے کہ راہول گاندھی کے مجوزہ دورہ تلنگانہ کے موقع پر دونوں ریاستوں کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔ دوسری طرف ٹی آر ایس قائدین کو یقین ہے کہ کانگریس کے موقف سے پارٹی کو انتخابات میں فائدہ ہوگا۔ پارٹی کی جانب سے اس مسئلہ کو کانگریس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے جس میں عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ آندھراپردیش کے خصوصی موقف سے تلنگانہ سرمایہ کاری اور روزگار سے محروم ہوجائے گا۔ مرکز کے فنڈس میں کمی آئی گی اور آندھراپردیش کو قومی پراجکٹس منظور کئے جاسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت اگرچہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے سے انکار کر رہی ہے لیکن کانگریس نے آئندہ انتخابات میں برسر اقتدار آنے پر اس موقف کا وعدہ کیا ہے۔ خصوصی موقف کا مطالبہ بہار کی نتیش کمار حکومت کی جانب سے بھی کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی ریاست کو ترقیاتی پیکیج منظور کیا جاسکتا ہے لیکن خصوصی موقف دینا ممکن نہیں۔ ٹی آر ایس نے 2014 ء میں جس طرح تلنگانہ جذبہ کو ہوا دے کر اقتدار حاصل کیا تھا، وہ 2019 ء میں اسی تجربہ کو دہرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔