’ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل ‘

عام آدمی کی خاص بات
’ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل ‘
جواری کی روٹی فروخت کر کے پیٹ پالنے والی لکشمی سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی) : خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنے آپ کی مدد کرتے ہیں ۔ اللہ کی زمین پر رزق کی تلاش اور اس کے لیے محنت و مشقت کا پھل ضرور ملتا ہے ۔ حوصلہ مند وہی ہے جو ضرورت پڑنے پر پتھر پھوڑ کر روٹی روزی کماتا یا کماتی ہے ۔ ہمارے اطراف ایسی کئی گمنام خواتین اور مرد ہوتے ہیں جو حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں اور آخر کار اپنی لگن و جستجو کا انعام پاتے ہیں ۔ ضرورت صرف اپنی آنکھیں اور اپنے کان کھلے رکھنے کی ہے ۔ یہ لوگ گمنامی کے پردے میں رہتے ہیں ۔ میڈیا کی چکا چوند سے دور رہتے ہیں اس لیے ان کے بارے میں عام لوگوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔ حالانکہ یہ ایسے معمولی اور غیر معروف لوگ ہیں جو دوسروں کے لیے خاص طور پر محنت سے جی چرانے والے کاہل لوگوں کے لیے سامان عبرت فراہم کرتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک بلند حوصلہ اور محنت کش خاتون لکشمی سے ہماری اتفاقاً ملاقات ہوگئی ۔ 50 سالہ ان خاتون کا تعلق آندھرا کے علاقہ کاکیناڈا سے ہے جو ان دنوں حیدرآباد میں رہائش پذیر ہیں ان کے شوہر ست نارائن خانگی ملازمت کرتے ہیں ۔ اس خاتون نے تلگو میڈیم سے 7 ویں تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ سنتوش نگر ونئے کالونی میں ایک ٹیبل ( میز ) پر وہ جواری کی روٹیاں پکا کر فروخت کرتی ہیں رفتہ رفتہ ان کی محنت رنگ لائی اور گاہکوں کے اصرار پر انہوں نے ترکاری کا سالن بنانا بھی شروع کردیا ۔ 2 سال پہلے انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا ۔ روزانہ شام 7 بجے سے 9 بجے رات تک وہ یہی کام کرتی ہیں جس سے ان کو تقریبا 300 روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہے ۔ یہ ان کی روزانہ کی آمدنی ہے ۔ حیدرآباد آنے کے بعد ابتدائی دور میں انہوں نے ایک کالج کی کینٹین میں کام کیا وہاں تنخواہ بہت کم تھی چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ خود کوئی کام کرے ۔ ان کی قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہانت بھی ان کی کامیابی کی ایک وجہ ہے ۔ وہ ایسی جگہ ٹیبل لگاتی ہیں جہاں اطراف میں طلبہ کے ہاسٹل ہیں جو اضلاع سے پڑھنے لکھنے کے لیے یہاں آئے ہیں ۔ خاتون لکشمی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج اطراف کے ہاسٹل کے لڑکے ان کے پاس سے جوار کی روٹی اور ترکاری کا سالن خریدتے ہیں ۔ ان طلبہ کو بھی سستے داموں پر روزانہ تازہ کھانا مل جاتا ہے ۔ کہیں دور جانا نہیں پڑتا ۔ ہوٹل کے کھانے سے زیادہ اچھا کھانا پاکر وہ بھی کم دام پر طلبہ بھی خوش و مطمئن ہیں انہیں گھر بیٹھے گھر جیسا صاف ستھرا کھانا جو مل جاتا ہے اور پیسوں کی بچت بھی ہوتی ہے ۔ لکشمی نے ہمت کی اور کامیابی حاصل کی ۔ ایسی کتنی لکشمیاں ، کتنی دردانہ بیگمات ، کلثومیں ہوں گی جو اپنا رزق خود پیدا کرتی ہیں ۔ لکشمی کی ایک اور خوبی بھی ہے کہ گاؤں سے اپنے ساتھ ایک چھوٹی سی لڑکی بھی لائی ہیں اس لیے نہیں کہ کاروبار اور کام کاج میں ہاتھ بٹائے بلکہ اس لیے کہ یہ معصوم لڑکی حیدرآباد میں تعلیم حاصل کرے ۔ اس کی کفالت بھی وہی کرتی ہے یہ لڑکی ان کی نگرانی میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم ہے ۔ ان کی روزانہ کی محنت کی وجہ سے کتنے طلبہ کو فائدہ ہورہا ہے ایک غریب بچی تعلیم حاصل کررہی ہے لکشمی خود کفیل بن گئی ہیں ۔ اپنے گاہکوں کے اصرار پر اب وہ گہیوں کی روٹی بھی پکا کر فروخت کررہی ہیں ۔ بلند حوصلگی کے آگے مشکلات موم کی طرح پگھل جاتے ہیں ۔ لکشمی کی یہ محنت ہزاروں کے لیے اعلیٰ ترین مثال ہے ، ’ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل ‘ ۔۔