’’ والدین کو 24گھنٹے برقی سربراہ نہیں کرسکا ‘‘

نئی دہلی۔/2جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کواپنی زندگی میں سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین کو 24گھنٹے برقی کی سہولت فراہم نہیں کرسکے جب وہ بقید حیات تھے۔ ڈاکٹر عبدالکلام جنہوں نے دیانتداری اور اخلاص اپنے والدین سے سیکھا ، اس بات پر مسرور ہیں کہ ان کے 99 سالہ بھائی اے پی جے ماریکیار ٹاملناڈو کے علاقہ رامیشورم میں واقع اپنے مکان میں اب 24گھنٹے برقی کی سہولت سے استفادہ کررہے ہیں جس پر وہ عصری ٹکنالوجی کے مشکور ہیں۔پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق صدر جمہوریہ 87سالہ عبدالکلام نے بتایا کہ میرے والد ( زین العابدین ) 103 سال تک اور میری والدہ 93سال تک زندہ رہے اور اب میرے بھائی 99سال کے ہیں۔ میں نے اپنے بھائی کیلئے یہ سہولت فراہم کی ہے کہ برقی کٹوتی کے باوجود 24گھنٹے وہ الکٹریسٹی سے استفادہ کرتے رہیں اور اس خصوص میں شمسی توانائی حاصل کرنے سولار پیانل نصب کرویا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ترقی اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ہمیشہ یہ افسوس رہا کہ اپنے والدین کو برقی سہولت فراہم نہیں کرسکا کیونکہ اسوقت عصری ٹکنالوجی دستیاب نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خاندان میں سب سے چھوٹے اور سب کے چہیتے تھے اور ان کی اسکولی تعلیم کے وقت برقی کا نام و نشان نہیں تھا جبکہ ان کے مکان میں شام کے وقت صرف 7تا 9بجے چراغ روشن کیا جاتا تھا۔تاہم ان کی والدہ ایک خصوصی چراغ ( کیروسین لیمپ ) دیتی تھیں تاکہ وہ شب 11بجے تک مطالعہ کرسکیں۔ ڈاکٹر عبدالکلام نے بتایا کہ سریجال پال سنگھ کی تصنیف Reigniteds Scientific Brightes Future کے مطالعہ نے ان کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور انہیں سائینس اور ٹکنالوجی سے شغف پیدا ہواگیا۔ تحصیل علم اور تحقیقات کے ذریعہ میزائل سائینسداں بن گئے۔