’’ میرے لیے دن اور رات برابر ہیں ‘‘ : نابینا محمد انور علی

عام آدمی کی خاص بات
حیدرآباد ۔ 11 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی) : آج کل کے نوجوان آئی ٹی صنعت سے وابستہ ہو کر نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نائٹ شفٹ صرف آئی ٹی سے وابستہ افراد ہی کرتے ہیں کیوں کہ دواخانہ عثمانیہ کے گیٹ سے متصل ایک نابینا شخص جس کا کاروبار رات گیارہ بجے شروع ہوتا ہے اور فجر کی اذان تک جاری رہتا ہے ۔ یہ محمد انور ہیں جو پیدائشی نابینا ہیں اور باغ جہاں آراء کے ساکن ہیں ۔ ان کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ دن کی بجائے رات میں کاروبار کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ نابینا ہیں ۔ ان کے لیے دن اور رات برابر ہیں ۔ محمد انور نے کہا کہ جب سارے شہر کا کاروبار بند ہوجاتا ہے تو ان کا کاروبار شروع ہوتا ہے ۔ البتہ بارش ہونے کی صورت میں وہ کسی دوکان کے سائبان میں اپنا ڈبہ لگالیتے ہیں ورنہ کھلے آسمان کے نیچے گذشتہ 14 سال سے وہ گٹکھا اور سگریٹ فروخت کررہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محمد انور دن کے اوقات میں بھی گلی گلی جاکر ماچس کی ڈبیا فروخت کرتے ہیں ۔ نابینا ہونے کی وجہ سے ان کی ’’ چھٹی حس ‘ کا جواب نہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ صرف سگریٹ کی ڈبیا کو ہاتھ لگا کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ وہ کون سا برانڈ ہے ۔ علاوہ ازیں انہیں کرنسی نوٹوں کے بارے میں بھی کوئی دھوکہ نہیں ہوتا ۔ 10 ، 20 ، 50 اور 100 کے نوٹوں کو وہ بہ آسانی پہچان لیتے ہیں ۔ محمد انور کے دو لڑکے حفظ کررہے ہیں جب کہ ایک لڑکی عاملہ کا کورس کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے کے لیے 24 گھنٹے بھی کم ہیں ۔ محمد انور کو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوتا ہے کہ ہٹے کٹے افراد بھی بھیک مانگتے ہیں تاہم زیادہ تعجب انہیں بھیک دینے والوں پر ہوتا ہے ۔ کسی معذور انسان کو خیرات کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ہٹے کٹے افراد کو اپنی محنت کی کمائی خیرات کرنے سے کیا فائدہ ۔ انہوں نے خود اپنی مثال دی کہ کس طرح وہ دن اور رات کے اوقات میں کام کرتے ہیں کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ محنت کی کمائی میں بہت زیادہ برکت ہے اور جب تک زندہ رہیں گے وہ جی نہیں چرائیں گے ۔ گھر تنگی سے ضرور چلتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا رزق مقرر کردیا ہے ۔ ہر انسان کو اس کے مقدر کا رزق ضرور ملتا ہے ۔ محمد انور نے ایک بات یہ بھی بتائی کہ نابینا ہونے کی وجہ سے پولیس کا رویہ بھی ان کے ساتھ ظالمانہ نہیں ہے ورنہ عام طور پر رات کے اوقات میں پولیس کسی کو کاروبار کرنے نہیں دیتی ۔ یہ سب دراصل منجانب اللہ ہے جو اپنے ہر بندے کا خیال رکھتا ہے ۔۔