’’ہندوستان میں مذہبی عدم رواداری گاندھی جی کیلئے تکلیف دہ ہوتی‘‘: اوباما

واشنگٹن۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ براک اوباما نے آج کہا ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ چند سال سے مختلف مذاہب کے ماننے والے جس طرح کی ’’عدم رواداری ‘‘ سے دوچار ہیں ، اس پر گاندھی جی کو بے حد صدمہ پہنچتا۔ اوباما نے یہ تبصرہ نئی دہلی میں کی گئی تقریر کے ضمن میں کیا ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے مذہبی رواداری کا تذکرہ کیا تھا، لیکن یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اوباما نے حکمراں بی جے پی کو راست تنقید کا نشانہ بنایا تاہم وائٹ ہاؤز نے ایک دن قبل اس کی نفی کی۔ اوباما نے ’’نیشنل پریئر بریک فاسٹ‘‘ پروگرام میں کہا کہ میشل اور وہ ہندوستان سے واپس ہوئے جو ایک دلفریب اور خوبصورت ملک ہے، کثرت میں وحدت اس کی پہچان ہے لیکن گزشتہ چند سال کے دوران تمام مذہبی عقائد کے ماننے والوں کو دیگر عقیدے کے لوگوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے مذہب پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدم رواداری کی یہ حرکتیں یقیناً گاندھی جی کیلئے جنہوں نے ملک کو آزادی دلانے میں مدد کی،

صدمہ انگیز ہوتیں۔ اوباما نے تاہم کسی مخصوص مذہب کا نام نہیں لیا اور کہا کہ تشدد کسی ایک گروپ یا ایک مذہب کیلئے مخصوص نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ میں انسانیت ہمیشہ اس طرح کے سوالات سے دوچار رہی ہے۔ بسااوقات ہم خود کو کافی بلند تصور کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوئے دیگر کے مقابلے ہمیں انفرادیت حاصل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صلیبی جنگوں اور ماضی میں لوگ یسوع مسیح کے نام پر کئی سفاکانہ کارروائیاں انجام دیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود امریکہ میں یسوع مسیح کے نام پر غلامی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ عام طور پر ہمارے اندر یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ ہم خود کو صحیح اور دیگر عقیدے کے ماننے والوں کو غلط قرار دیتے ہیں۔ آج کی دنیا میں نفرت پھیلانے والے گروپس کے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیں اور وہ سائبر اسپیس میں خفیہ طور پر اپنی جگہ بنائے ہیں۔ ایسے میں عدم رواداری کا مقابلہ مزید مشکل ہوجاتا ہے لیکن خدا ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس موقع پر 3,000 سے زائد امریکی اور بین الاقوامی قائدین موجود تھے۔