احمدآباد۔ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جوشی نے مودی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پیشرو یو پی اے حکومت نے اراضی حصولیابی بل تیار کیا ہے۔ اس وقت بی جے پی قائدین جیسے راج ناتھ سنگھ، سمترا مہاجن اور سشما سوراج پارلیمانی کمیٹی میں تھے۔ ان کے علاوہ وہ (سی پی جوشی) خود بھی کمیٹی میں شامل تھے۔ تقریباً ایک سال مذاکرات کے بعد مسودہ بل تیار کیا گیا اور اسے پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور بھی کرلیا گیا تھا۔ مودی اس وقت منظر پر نہیں تھے تاہم ان کے اقتدار پر آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ وہ جیسے ہی اقتدار پر آئے، اراضی قانون میں کئی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جو موافق کسان تھیں، اب جو بل پیش کیا جارہا ہے، اس سے صرف کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ ہوگا۔ مودی کے نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جوشی نے کہا کہ اب یہ نعرہ ’’کارپوریٹ کا ساتھ، خود کا وِکاس‘‘ بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم کے نام پر مودی نیٹ نیوٹریلیٹی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سارے اختیارات چند ٹیلی کام فرمس کے ہاتھوں محدود کررہے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے لیڈر راہول گاندھی اور دیگر کئی شہریوں نے آواز اٹھائی اور حکومت کو اپنا موقف بدلنے پر مجبور کیا۔