’’میں جو ٹھان لیتا ہوں وہ کر دکھاتا ہوں‘‘: کے سی آر

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے آج کہا کہ ان کی حکومت حیدرآباد کو ایک صاف ستھرا اور عالمی شہر بنانے کا عہد کرچکی ہے۔ کے سی آر نے اپنی سوچھ حیدرآباد مہم کے ایک حصہ کے طور پر آج بھی سکندرآباد کے مختلف محلہ جات کا دورہ کیا اور کہا کہ شہر میں اب ہر جگہ کنکریٹ کی عمارتیں ہی نظر آرہی ہیں اور کہیں پیڑ پودے باقی نہیں رہے۔ اس صورتحال میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ وہ بہت ضدی شخص ہیں، جو ٹھان لیتے ہیں اس کو پورا کرنے تک چین سے نہیں بیٹھتے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے عثمانیہ یونیورسٹی کی 11 ایکڑ اراضی پر غریبوں کے لئے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر حیدرآباد کا سیاسی ماحول اچانک گرم ہو گیا۔ علاوہ ازیں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کے کیمپس اور سکریٹریٹ میں اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چیف منسٹر کے پتلے نذر آتش کئے گئے، جب کہ اپوزیشن کانگریس، تلگودیشم اور کمیونسٹ جماعتوں نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔ تاہم طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نہ صرف اپنے فیصلہ پر اٹل ہیں، بلکہ اس تجویز کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف جارحانہ تیور اپنائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے آج سکندر آباد کے ایشوری بائی نگر اور گوتا نگر وغیرہ میں چوتھے دن بھی سوچھ حیدرآباد پروگرام میں حصہ لیا اور کہا کہ وہ کسی سے ڈرنے یا گھبرانے والے نہیں ہیں۔ پتلے نذر آتش کرنے یا احتجاج کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا، غریب عوام کے لئے مکانات کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے ہی دراصل اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں، مگر وہ ہر حال میں عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی پر غریبوں کے لئے مکانات تعمیر کریں گے، ایسا کرنے سے انھیں کوئی روک نہیں سکتا اور نہ ہی وہ کسی کے روکنے سے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوامی تائید سے محروم ہونے والی جماعتیں اور قائدین مٹھی بھر لوگوں کو احتجاج کی ترغیب دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہ راجاؤں کا دور نہیں ہے کہ یونیورسٹیز کے لئے سیکڑوں ایکڑ اراضی کی ضرورت پڑے، جب کہ ماضی کی حکومتوں نے ریس کورس، گولف کورس، قمار بازی اور جوا کھیلنے کے کلبس کو سیکڑوں ایکڑ اراضی حوالے کی ہے۔ کیا ان اراضیات پر غریب عوام کے لئے مکانات کی تعمیر کوئی غلطی یا جرم ہے؟ لہذا غریبوں سے انصاف کے معاملے میں وہ کسی سے ڈریں گے نہیں۔انھوں نے کہا کہ غریب عوام کے مفادات کے تحفظ کی بجائے چند جماعتیں اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں، لیکن جب وہ کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو درمیان میں روکنے کے عادی نہیں ہیں۔ انھوں نے شہر کی ترقی اور حیدرآباد کو سرسبز و شاداب بنانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی شہریوں سے اپیل کی۔