’’مجھے انتھک کام کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ‘‘

شنگھائی، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے مسلسل بیرونی دوروں پر اپوزیشن کی تنقیدوں پر آج اپنی خاموشی توڑتے ہوئے سیاسی مخالفین کو بالواسطہ طورپر مگر مبہم انداز میں جوابی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ کسی تھکاوٹ کے بغیر مسلسل کام جاری رکھنے پر انھیں تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دریافت کیاکہ انتھک کام کرتے رہنا آیا کوئی جرم ہے ؟ مودی نے جو اپنے گزشتہ دورہ ٔجرمنی، فرانس اور کناڈا کے دوران ماضی کی حکومتوں پر کی گئی تنقیدوں کے سبب تنقید کا نشانہ بنے تھے، آج یہاں کہا کہ ’’لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مودی آخر کس لئے بیرونی ممالک کے دورے کررہے ہیں ۔ اگر آپ کام میں کمی کرتے ہیں تو اس پر تنقید واجبی ہے لیکن یہ میری بدقسمتی ہے کہ مجھے بہت زیادہ کام کرنے پر تنقید و مذمت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے سوال کیا : ’’آیا بہت کام کرنا کوئی جرم ہے ۔ میں اس طرح کا کام جاری رکھوں گا۔ یہ عوام سے میرا وعدہ ہے ‘‘۔ وزیراعظم نے اپنے سہ روزہ دورۂ چین کے اختتام کے موقع پر شنگھائی میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، ’’وقت بدل رہا ہے ‘‘ اور ان کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے سبب ساری دنیا ہندوستان کو مختلف انداز میں دیکھ رہی ہے، جو ہر ہندوستانی شہری کیلئے باعث فخر ہے۔

مودی نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال آج ہی کے دن لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا جارہا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر تین وعدے کئے تھے : ’’میں انتھک کام کرتا رہوں گا ‘‘ ، ’’میں ناتجربہ کار ہوں لیکن سیکھ لوں گا ‘‘ اور ’’میں کسی بُرے ارادہ کے ساتھ کوئی غلطی نہیں کروں گا ‘‘ ۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ وہ تینوں وعدوں کو پورا کررہے ہیں اور کہا ، ’’گزشتہ ایک سال کے دوران میں نے ایک دن کی رخصت بھی نہیں لی ہے ۔ میں دن اور رات کام کرتا رہا ہوں ۔ کیا میں نے کوئی چھٹی لی ہے ؟ کیا میں نے کبھی آرام کیا ہے ؟ کیا میں اپنے وعدے پورے نہیں کررہا ہوں ؟ ‘‘۔ چھٹی سے متعلق مودی کے ریمارکس کو کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی پر تنقید کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے جنھوں (راہول ) نے حالیہ عرصہ میں 56 دن کی چھٹی لی تھی ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے گزشتہ ہفتے مودی پر الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعظم اپنے معزز و باوقار پیشرو ڈاکٹر منموہن سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے بیرون ملک سرزمین پر ہندوستان کی داخلی سیاست کا کھلواڑ کررہے ہیں۔