’’فوجی حل کیلئے کانگریس کی اجازت ضروری نہیں‘‘

واشنگٹن ۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر براک اوباما نے آج قانون داں افراد سے کہا کہ جنگ زدہ ملک عراق میں تازہ ملٹری کارروائی کیلئے انہیں کانگریس کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اوباما نے گذشتہ روز کانگریس کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تقریباً آدھے گھنٹہ کا اجلاس منعقد کیا جس میں امریکی صدر نے عراق میں فوجی کارروائی کیلئے موجود تمام متبادل راستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بغداد نے گذشتہ روز واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی حملے کرے کیونکہ عسکریت پسندوں نے عراق کے تیل کے سب سے اہم ریفائنری اور شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

اوباما کی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ کے مائناریٹی لیڈر مچ مائیک کونیل نے میڈیا نمائندوں سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ صدر امریکہ نے عراق کی صورتحال سے عہدیداروں کو واقف کروایا اور کہا کہ عراق میں کسی بھی قسم کی کارروائی کیلئے انہیں کانگریس کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اوباما کے اجلاس میں کئی اہم عہدیدار موجود تھے جس میں پارلیمنٹ کے اکثریتی قائد ہیری ریڈ، ڈیموکریٹک لیڈر نینسی پلوسی اور اسپیکر جان بوئنر قابل ذکر ہیں۔ پلوسی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عراق میں سیکوریٹی کو مستحکم کرنے کیلئے صدر امریکہ کو کسی قانونی ارباب مجاز کی اجازت کی ضرورت ہے۔