عام آدمی کی خاص بات
’’دوست نے قرض لیا اور میں غبارے بیچ کر پھیڑ رہا ہوں صاحب ‘‘
غبارے فروش سرکاری ملازم محمد احمد اللہ کی دلچسپ داستان
حمایت نگر کے علاقہ میں غبارے فروخت کرنے والے شہر کے 45سالہ محمد احمد اللہ جو ایک محنت کش شخص تو ہیں لیکن ناخواندہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی اس طرح بے سمتی کا شکار ہے کہ وہ محنتی ہونے کے باوجود معصوم شخص کی علامت بنے ہوئے ہیں اور بے سمتی کا شکار بھی ہیں۔محمد احمد اللہ کا معاملہ دراصل یہ ہے کہ وہ حمایت نگر کے پاش علاقہ میں گشت کرتے ہوئے گیاس کے غبارے فروخت کرتے ہیں۔ جسمانی ساخت کے اعتبار سے کافی محنت کش لیکن کاروباری اعتبار سے کافی ہوشیارمحمد احمد اللہ 6روپے کا غبارہ 10روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ وہاں سے گزرتے وقت ہم نے کچھ دیر تک ان پر اپنی نگاہِ تجسس جمائے رکھی اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ قریب جاکر ماجرہ سمجھا جائے۔ جب ہم قریب پہنچے اور حال چال دریافت کرکے بات آگے بڑھائی اور نام دریافت کیا تو غبارے فروش شخص نے اپنا نام محمد احمد اللہ بتایا ۔ جب ہم نے گفتگو کی ڈور کو آہستہ آہستہ ڈھیل دی تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ محمد احمد اللہ کوئی غریب یا غربت کے مارے انسان نہیں جو مجبوری اور بھوک پیاس کے لیے ‘‘ چمڑے میں ہوا‘‘ بھر کر بیچ رہے ہیں بلکہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور اوپل میں واقع محکمہ ٹیلی کم آفس کے باقاعدہ ملازم ہیں۔یہ ملازمت انھیں ان کے والد کے ڈیوٹی پر انتقال کے سبب ملی ہے۔ وہ سبحان پورہ نامپلی کے رہنے والے ہیں اور ڈیوٹی کے بعد حمایت نگر علاقہ میں غبارے فروخت کرتے ہیں۔پہلے ہمارے درونِ ذہن یہ بات گشت کرنے لگی کہ شاید غبارے بیچنا ان کا محبوب مشغلہ ہوگا لیکن نہیں !جب ہم نے وجہ دریافت کی تو احمد اللہ نے بڑی معصومیت سے بتایا کہ ’’دراصل ان کے ایک دوست نے بینک سے قرض لیا تھا اور انھوں نے ضمانت دی تھی ۔ وہ دوست لاپتہ ہوگیا ہے اور وہ غبارے فروخت کرکے قرض کی قسطیں ادا کر رہے ہیں !‘‘ ان کے اس استدلال سے ہمارے دلِ بے قرار کو قرار نہیں آیا۔ ہم نے معاملہ کی گہرائی میں غوطہ زن ہونے کی کوشش میں گفتگو کے مرحلہ کو تھوڑا اور آگے بڑھایا تو انھوں نے بتایاکہ وہ روزانہ 9.00بجے سے5.30بجے تک محکمہ ٹیلی کم کے دفتر واقع اوپل میں ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اور پھر گھر آکر تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد رات8.00بجے سے 12.00بجے تک حمایت نگر علاقہ میں غبارے فروخت کرتے ہیں۔ اس کاروبار سے انھیں روزانہ 300تا400روپے کی کمائی ہوجاتی ہے ۔جبکہ ہمارے اندازے کے مطابق یہ کمائی اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے ۔ دوست نے بینک قرض کے دستاویزات پر ان کے دستخط حاصل کر کے احمد اللہ کی ہوا نکال دی ہے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنے دوست کو قرض دلانے میں مدد کی سزا بھگت رہے ہیں اور 3سال سے بینک کی قسطیں خود ادا کررہے ہیں۔یہ احمد اللہ کی خودداری اور شرافت ہے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کررہی ہے ورنہ آج کے زمانہ میں تو لوگ دوست کے معنی صرف ’’سلام کرنا اور ہاتھ ملاکر آگے بڑھ جانا ‘‘سمجھتے ہیں ۔ لیکن اگر ذہن کو کریدا جائے تو یہی بات سامنے آئے گی کہ کوئی بھی بینک بھاری قرض دیتا ہے تو ضمانت کے عوض درخواست گذار کی کوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد بھی اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور قرض کی عدم ادائیگی پر جائیداد قرق کرکے بینک اپنی رقم وصول کرلیتا ہے لیکن اگر کوئی جائیداد بینک میں رکھواکر قرض نہیں لیا گیا ہے تو پھر یہ قرض ’’پرسنل لون‘‘ ہوگا جس کی رقم ایک لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ احمد اللہ چاہیں تو اس معاملہ میں کسی وکیل سے مشاورت کے ذریعہ عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹا سکتے ہیں لیکن یہ ان کی لاعلمی ہے جس کے سبب وہ ’’دغا باز دوست‘‘ کی عیاری کا شکار ہوگئے ۔ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور معقول تنخواہ بھی اٹھاتے ہیں۔ دوست کے قرض کے لیے غبارے بیچنے پر مجبور ہونے کا احمد اللہ کا شکوہ محض خود کو مجبور اور لاچار ظاہر کرنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہاں بہ اعتبارِ وصف وہ ایک محنت کش‘ خوددار شخص ضرورہیں ۔یہ بات اور ہے کہ ان میں ہوشیاری بھی قدرے ’’اکسٹرا‘‘ ہی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کو تین بچے ہیں جن میں دو لڑکے ہیں اور ایک لڑکی۔ محمد احمد اللہ نے بچوں کو محنت کشی کی نصیحت تو کی لیکن کسی کو بھی تعلیم نہیں دلوائی جو کہ والدین کا اولین فریضہ ہے۔ ان کا ایک لڑکا سیاحوں کو پانی کے بوتل فروخت کرتا ہے اور دوسرا میکانک ہے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ وہ اس کی شادی کے لیے ماہانہ 3ہزار روپے بینک میں جمع کروادیتے ہیں۔ احمد اللہ نے بتایا کہ اگر سرکاری ملازم لڑکا ملتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ کوئی محنتی لڑکے کو دیکھ کر اپنی بیٹی کی شادی کردیں گے اور پھر بعد میں ایک ذاتی گھر بنانے کی کوشش کریں گے۔ بہر حال احمد اللہ کے مثبت پہلوؤں کو دیکھا جائے تو وہ محنت سے جی چرانے‘ ذمہ داری سے بھاگنے اور صرف ’’شکوئہ محرومی ‘‘کا رونا روتے بیٹھنے والوں سے تو لاکھ درجہ بہتر ہیں۔