نئی دہلی۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی پر تنقید کرتے ہوئے افراطِ زر کو جزوی طور پر تاجروں کی ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت اپنی ’’عدم کارکردگی کیلئے بہانے ڈھونڈ رہی ہے‘‘ ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اجئے ماکن نے کہا کہ بی جے پی اپنے تیقن کے مطابق ’اچھے دن‘ لانے سے قاصر ہے۔ جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو دعویٰ کیا کرتی تھی کہ حکومت میں کرپشن کا نتیجہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے اور سوال کیا کہ کیا پارٹی کا اب بھی یہی احساس ہے جبکہ وہ برسراقتدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارون جیٹلی نے افراطِ زر کے لئے ذخیرہ اندوزوں پر الزام عائد کیا ہے اور ریاستی حکومتوں سے خواہش کی ہے کہ ذخیرہ اندوزی پر قابو پائیں تاکہ افراطِ زر روکا جاسکے۔ جیٹلی کا یہ بیان ، وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے کہ عوام کو ’کڑوی گولیاں‘ کھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور حکومت اپنی عدم کارکردگی پوشیدہ رکھنے کے لئے بہانے تلاش کررہے ہیں کیونکہ وہ عوام کی اُمیدوں اور آرزوؤں کی تکمیل سے قاصر ہیں کہ وہ ’اچھے دن‘ لائیں گے۔ اجئے ماکن نے جو کانگریس کے شعبہ ذرائع ابلاغ کے صدرنشین بھی ہیں، کہا کہ ’اچھے دن‘ جانے کب آنے والے ہیں اور نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران جو نمایاں نعرے لگائے تھے،
اُن کی تکمیل کب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں ذخیرہ اندوزی کہنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ریاستی حکومتیں اور بین الاقوامی سطح پر تبدیلیاں قیمتوں میں اضافہ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ بی جے پی جب اپوزیشن پارٹی تھی تو اس نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تھا، صرف یو پی اے حکومت پر الزام عائد کیا کرتی تھی کہ اس کا کرپشن قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار ہے، اب ہم بی جے پی اور حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اب قیمتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے۔ جبکہ آپ کی حکومتوں میں کرپشن نہیں ہے۔ انہوں نے جزوی طور پر قیمتوں میں اضافہ کا نتیجہ افراطِ زر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاجروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیٹلی نے کل افراطِ زر کو تاجروں کی جانب سے غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مرکزی حکومت رکاوٹوں کو دُور کرنے اور ریاستوں کو زیادہ مقدار میں اشیائے ضروریہ سربراہ کرنے کی پابند ہے، لیکن انہیں بھی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی تاکہ قیاس آرائیاں کا انسداد ہوسکے۔