حیدرآباد 22 جولائی (این ایس ایس) تلنگانہ میں کسی رکاوٹ کے بغیر صنعتوں کے قیام کی اجازت کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے سنگاپور کے معیارات پر مبنی نئی صنعتی پالیسی کے اندرون دو تین ہفتے اعلان کا وعدہ کرتے ہوئے ریاستی چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے آج صنعتکاروں اور تاجرین کو اس ریاست میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کی ترقی کا حصہ بن جانے کی دعوت دی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے گرینڈ کاکتیہ فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور فیڈریشن آف اے پی کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندوں کے علاوہ 50 سے زائد سرکردہ صنعتکاروں کے اجلاس سے خطاب کے دوران اپنی صنعتی بصیرت کا اظہار کیا اور نئی صنعتی پالیسی کے لئے ان سے تجاویز طلب کئے۔ اُنھوں نے سرکردہ صنعتکاروں کو اپنی ریاست میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے ترغیب کے طور پر کئی پُرکشش وعدے بھی کئے۔ جن میں بلا وقفہ برقی کی سربراہی، ہر ایک آبپاشی پراجکٹ سے 10 فیصد پانی کی سربراہی اور دیگر تمام سہولتوں کے علاوہ صنعتی نمائندوں کو شمس آباد ایرپورٹ سے سکریٹریٹ میں واقع ان کے چیمبرس تک بلا رکاوٹ رسائی کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
کے سی آر نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لئے بعض صنعتکاروں کو ترغیب دیئے جانے پر گورنر ای ایس ایل نرسمہن کا شکریہ ادا کیا۔ اُنھوں نے انکشاف کیاکہ گورنر نے مجھ سے ٹیلی فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے ان چند سرکردہ صنعتکاروں سے تبادلہ خیال کے لئے طلب کیا جو ماضی کی حکومت میں مبینہ رشوت ستانی کے سبب ہونے والی رکاوٹوں کے سبب سرمایہ کاری کرنے سے پس و پیش کرنے لگے تھے۔ کے سی آر نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے غیر سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جس کے نتیجہ میں ٹریفک مسائل اور بدنظمی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن ان کی موجودہ ٹی آر ایس حکومت کشادہ سڑکوں، بارش اور گندہ پانی کے لئے بڑے ڈرینج لائنس کی تنصیب کے ساتھ ڈھائی کروڑ شہریوں کو آرام دہ مقام فراہم کرنے کی کوشش سے حیدرآباد کی تعمیر نو کرے گی۔
چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے کہاکہ تلنگانہ کے پاس اپنے ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کے اطراف 100 تا 120 کیلو میٹر کے رقبہ میں تین لاکھ ایکر قیمتی اراضیات ہیں جو نئی صنعتوں کے قیام کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ کے سی آر نے کہاکہ ان کی حکومت ریاست کی ترقی کے ایک حصہ کے طور پر مختلف صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویر کے علاوہ ہارڈ ویر صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی بھی کرے گی۔ صنعتوں کے قیام کے ذریعہ تلنگانہ کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کے سی آر نے کہاکہ سنگارینی کالریز عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اپنی پیداوار میں 10 فیصد اضافہ کے ساتھ عالمی کمپنی بن جائے گی۔