کابل۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ افغان صدر اشرف غنی نے تخریب کاروں کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر بیرونی افواج کی واپسی سے عین قبل اپنے ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے سلسلہ وار عسکریت پسند حملوں کی آج سخت مذمت کی اور اپنے اس عہد کا اظہار کیا کہ ’’ہم ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکیں گے‘‘۔ افغانستان کے یوم انسانی حقوق کے موقع پر اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر اشرف غنی نے تمام مذہبی، سیاسی و سماجی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ تشدد کی مذمت کریں۔ ایک مرحلہ پر انھوں نے زوردار آواز میں جھنجھلاتے ہوئے کہا کہ ’’بس، اب بہت ہوچکا ہے‘‘۔ صدر اشرف غنی نے یہ خطاب ایک ایسے وقت کیا، جب ان کے ملک سے بیرونی افواج 13 سال بعد واپسی کے لئے بمشکل دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ امریکہ کی زیر قیادت ناٹو افواج کی واپسی سے عین قبل طالبان تخریب کاروں نے ملک بھر میں اپنے سلسلہ وار حملوں میں شدت پیدا کردی ہے، بالخصوص افغان صدر کی حیثیت سے اشرف غنی کے فائز ہونے کے بعد تخریب کار حملوں میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ وہ (غنی) حملہ کے متاثرین کی مختلف دواخانوں یا پھر ان کے گھر پہنچ کر عیادت کیا کرتے ہیں۔ افغان صدر نے اپنے خطاب کے دوران سخت لب و لہجہ اختیار کیا، لیکن تخریب کاروں سے نمٹنے کے لئے اپنے کسی منصوبہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔