’ہند۔ پاک تعلقات کو مسئلہ کشمیر کا یرغمال نہیں بنانا چاہئے‘

حیدرآباد 16 نومبر ( پی ٹی آئی/ سیاست نیوز) پاکستان کے ہائی کمشنر برائے ہند عبدالباسط نے آج اس تاثر کا اظہار کیا کہ سفارتکاری میں کوئی چیز ’مکمل طور پر بند نہیں ہوتی‘ اور اپنی توقع کا اظہار کیاکہ ہندوستان کے ساتھ تعطیل پذیر مذاکرات کا عمل بہت جلد شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی جانب سے جنگ بندی سمجھوتہ کی پابندی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مسٹر عبدالباسط نے جو حیدرآباد پریس کلب میں مقامی صحیفہ نگاروں سے بات چیت مزید کہا کہ ’’وزیر امور خارجہ عزت مآب سشما سواراج نے کہا تھا کہ سفارتکاری میں ’فل اسٹاپس‘ ( وقفہ کامل) نہیں ہوتے ۔ میں بھی ان سے اتفاق کرتا ہوں کہ سفارتکاری ….. کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکتا چنانچہ یہ امید کرنا چاہئے کہ (مذاکرات کے احیاء کے ) امکانات پیدا ہوں گے اور میں اس ضمن میں پُر امید ہوں۔ اس سوال پر کہ مذاکرات کے عمل میں علحدگی پسند گروپوں کو شامل کرنے کے بجائے پاکستان کو راست مذاکرات کرنے سے متعلق ہندوستان کے موقف کے بارے میں پاکستان کا موقف کیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ جموں و کشمیر دونوں ممالک کے درمیان مختلف مسائل میں شامل ایک مسئلہ ہے اور دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ قیام امن کی کوشش کریں۔ مسٹر عبدالباسط نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان ایک مسئلہ ہے اور یہ جامع مذاکرات کے عمل کا ایک حصہ بھی ہے چنانچہ ہم امید کرتے ہیں کہ جب کبھی مذاکرات کا عمل بحال ہوگا ہم ماضی کے اقدامات کی تکمیل کرتے ہوئے مزید پیشرفت کریں گے کیونکہ امن ہی ہمارا باہمی مفاد ہے ‘‘۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے اگست کے دوران پاکستان کے ساتھ مقررہ معتمد خارجہ سطح کی بات چیت کو پاکستانی قاصد کی کمشیری علحدگی پسندوں کے ساتھ ملاقات پر اعتراض کرتے ہوئے منسوخ کردیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک سوال پر ہائی کمشنر عبدالباسط نے جواب دیا کہ ان کا ملک اس مسئلہ پر ہندوستان سے مختلف نظریہ رکھتا ہے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو چاہئے کہ ماضی کے تمام سمجھوتوں کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا تعلق ہے یقیناً ہمارا موقف مختلف ہے مجھے یقین ہے کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارا موقف جداگانہ ہے لیکن 2003 میں متفقہ سمجھوتہ کی خلاف ورزی کون کررہا ہے اس بحث میں گئے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ ہم جنگ بندی کے سمجھوتہ کی پابندی کریں جو اہمیت کی حامل ہیں‘‘۔ مسٹر عبدالباسط نے کہا کہ ’’ اور ، نہ صرف جنگ بندی کا سمجھوتہ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کو تمام سمجھوتوں، یادداشت ہائے مفاہمت اور اعلامیہ جات کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے….جن کی پابندی ہمیں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گی‘‘۔پاکستانی سفارتی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشادہ ماحول اور پائیدار امن دونوں ملکوں کیلئے معاشی فوائد فراہم کرسکتا ہے۔ مسٹر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہ اس لعنت کا شکار ہوا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان میں نئی قیادت استحکام کی سمت پیشرفت کررہی ہے جس سے پاکستان میں بھی استحکام پیدا ہوگا ۔ اس سوال پر کہ آیا پاکستان میں اصل حکومت کون کررہا ہے انہوں نے جواب دیا کہ ایک منتخب حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار سونپا ہے اور جمہوریت کی جڑیں پیوست ہونے کیلئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ ایک اور سوال پر مسٹر عبدالباسط نے جواب دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کی کوششوں میں اضافہ کیا جانا چاہئے کیونکہ ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ایجنڈوں میں یکسانیت و مماثلت ہے۔ مسٹر عبدالباسط نے کہا کہ ’’تعلقات کو مستحکم بنانے کی مساعی کی جانی چاہئے۔ ہمارے وزیراعظم نواز شریف صاحب کا ایجنڈہ اقتصادی ترقی ہے اور وزیر اعظم مودی صاحب کا ایجنڈہ بھی ترقی ہے ۔ دونوں حکومتوں کے ایجنڈوں میں مماثلت ہے چنانچہ ایسی کوئی وجہ نہیںہے کہ کیوں نہ ہم مشترکہ طور پرچیلنجوں کا سامنا کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے تعاون و خیر سگالی کریں ۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان یہ نہیں چاہتا ہے کہ باہمی تعلقات کو صرف مسئلہ کشمیر کا یرغمال بنائے رکھا جائے ۔ مسٹر عبدالباسط نے دونوں ملکوں کے صحافیوں کے وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا ۔ توقع ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کل 17 نومبر کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو اور حکومت تلنگانہ کے دیگر سینئر ذمہ داروں کے ساتھ ملاقات کریں گے ۔