کابل ۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) افغان طالبان نے پڑوسی ملک پاکستان کے ایک اسکول پر دہشت گردوں کے دھاوے اور اس ملک کے بدترین دہشت گرد حملے میں 141 بے قصور افراد کی ہلاکتوں کی آج سخت مذمت کی اور کہا کہ معصوم بچوں کو ہلاک کرنا اسلامی کے مغائر ہے۔ پشاور کے دہشت گرد حملے میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہیکہ عسکریت پسندوں نے گذشتہ روز 8 گھنٹے طویل وحشیانہ کارروائی میں 12 سال کے کم عمر اسکولی بچوں کو بھی بے رحمانہ فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس بربریت انگیز حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس حملہ کو پاکستانی سرحدی صوبہ میں فوجی کارروائی پر اپنا اختتام قرار دیا تھا۔ افغان طالبان نے جو خود بھی بالعموم بے قصور افراد کو اپنی دہشت گرد کارروائیوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا کرتے ہیں، کل رات دیر گئے جاری کردہ اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ’’اسلامی امارت افغانستان، ہمیشہ ہی ہر مرحلہ پر معصوم اسکولی بچوں
اور بے قصور افراد کی ہلاکتوں کی مذمت کرتا رہا ہے‘‘۔ افغان طالبان نے کہا کہ ’’بے قصور مرد، خواتین اور بچوں کو دانستہ طور پر ہلاک کرنا اسلامی اصولوں کے مغائر ہے۔ ہر اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک اس بنیادی اصول کی پابندی کرنا چاہئے‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہیکہ ’’اسلامی امارت افغانستان (طالبان کا باضابطہ نام) اس واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہے اور مہلوک اسکولی بچوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں‘‘۔ افغان طالبان بھی ایک جہادی گروپ ہی ہے جس کا پاکستانی طالبان سے اگرچہ کمزور الحاق ہے لیکن یہ دونوں ہی گروپ مفرور ملا عمر سے وفاداری کا عہد کرچکے ہیں۔ افغان طالبان اگرچہ بے قصور شہروں کو ہلاک کرنے سے خود کو دور رکھتے ہیں لیکن ان افراد کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا کرتے ہیں جن کا جنگی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ افغان طالبان اگرچہ اپنے علاقوں میں بیرونی اور خود اپنے ملک کی فوج کو نشانہ بناتے ہیں لیکن پاکستانی طالبان عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔