’بہار عرب ‘ کے نتیجہ میں خلیجی حکومتیں بھی تبدیل ہوں گی: تلمیذ احمد

حیدرآباد۔/22اپریل، ( آئی این این ) مغربی ایشیا اُمور کے سرکردہ ماہر جناب تلمیذ احمد نے آج کہا ہے کہ2011 بہار عرب کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلی کی لہر شروع ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں خلیجی مملکتوں میں حکمرانی بھی تبدیل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی یقینی ہے لیکن وہ فی الحال یہ نہیں بتاسکتے کہ ایسا کب ہوگا، اس کے لئے پانچ سال یا دس سال بھی ہوسکتے ہیں۔ جناب تلمیذ احمد جنہوں نے مختلف ممالک میں ہندوستانی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور جنہیں سعودی عرب میں دو مرتبہ اس عہدہ پر فائز رہنے کا موقع ملا، آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی طلبہ و اسٹاف سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے ’’ بہار عرب کے چار سال بعد ‘‘ عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مصر میں منتخبہ حکومت کی معزولی یا شام اور یمن میں بدلتے حالات کی وجہ سے بہار عرب کا دور ختم ہوچکا ہے تو وہ حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ مغربی ایشیاء کے عوام میں بنیادی سطح پر تبدیلی کا نظریہ پیوست ہوچکا ہے۔ نئی نسل کیلئے یہ لڑائی اسلام و جمہوریت کے مابین نہیں ہے چنانچہ سخت گیر اسلام پسند بھی موجودہ حکومتوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ غربت کا خاتمہ ہو، روزگار کے مواقع فراہم ہوں اور حقوق انسانی کا احترام ہو۔اجلاس کی صدارت پرو وائس چانسلر پروفیسر خواجہ ایم شاہد نے کی۔